حدیث نمبر: 5594
حدثني (1) يونس بن محمد الظَّفَري، عن أبيه. وحدثني محمد بن صالح، عن عاصم بن عمر. وحدثني مَعمَر، عن الزُّهْري، فيمن شهد العَقَبةَ: أبو طلْحة زيد بن سَهْل بن الأسوَد بن حَرام بن زيد مَناة بن عَدِيّ بن مالك بن النَّجّار. شهد بدرًا، وله عَقِبٌ، وكان من الرُّماة المَذكُورين من أصحاب رسول الله ﷺ، وقيل: إنه كان رجلًا آدَمَ مَربُوعًا، ومات بالمدينة سنةَ أربعٍ وثلاثين، وصلَّى عليه عثمانُ بن عفان ﵁، وهو يومئذٍ ابن سبعين سنةً (2).
حافظ طلحہ بابر

یونس بن محمد ظفری اپنے والد سے، محمد بن صالح عاصم بن عمر سے، اور معمر زہری سے بیعتِ عقبہ میں شریک ہونے والوں کے بارے میں بیان کرتے ہیں کہ ان میں ابو طلحہ زید بن سہل بن اسود بن حرام بن زید مناۃ بن عدی بن مالک بن نجار رضی اللہ عنہم شامل تھے۔ انہوں نے غزوہ بدر میں شرکت کی تھی، ان کی نسل آگے چلی، اور ان کا شمار رسول اللہ ﷺ کے مشہور تیر انداز صحابہ میں ہوتا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ وہ گندمی رنگت والے اور درمیانے قد کے آدمی تھے۔ انہوں نے چونتیس (34) ہجری میں مدینہ منورہ میں وفات پائی، سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے ان کی نمازِ جنازہ پڑھائی، اور اس وقت ان کی عمر ستر سال تھی۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5594
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 5594] [ترقيم الشركة 5544]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) القائل: "حدثني" هو محمد بن عمر الواقدي.
اہم نکتہ: یہاں "حدثنی" (مجھے حدیث بیان کی) کہنے والے "محمد بن عمر الواقدی" ہیں۔
(2) وهو عند ابن سعد في "طبقاته" 3/ 468 و 470 عن محمد بن عمر الواقدي، وزاد: شهد بدرًا وأُحُدًا والخندق والمشاهد كلها مع رسول الله ﷺ، وزاد أيضًا: وأهلُ البصرة يروون أنه ركب البحر فمات فيه، فدفنوه في جزيرة.
حوالہ / مصدر: یہ روایت ابن سعد (طبقات، 3/ 468، 470) میں بھی الواقدی کے واسطے سے ہے، جس میں یہ اضافہ ہے کہ ابو طلحہ غزوہ بدر، احد، خندق اور تمام مشاہد میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ شریک تھے۔ نیز یہ بھی کہ اہل بصرہ کے مطابق وہ سمندری سفر کے دوران فوت ہوئے اور جزیرے میں دفن کیے گئے۔
وسبق التعليق على ذلك في أول الترجمة.
نوٹ / توضیح: اس پر تفصیلی تبصرہ ترجمہ (سوانح) کے آغاز میں گزر چکا ہے۔
والآدَمُ: الذي في لونه سُمرة شديدة.
نوٹ / توضیح: "آدم" سے مراد وہ شخص ہے جس کی رنگت میں گہرا سانولا پن ہو۔
والمَربُوع: هو بين الطويل والقصير، يقال: رجل رَبْعة ومَربُوع.
نوٹ / توضیح: "مربوع" سے مراد وہ شخص ہے جس کا قد نہ زیادہ لمبا ہو نہ چھوٹا، بلکہ میانہ قد ہو۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5594 سے ماخوذ ہے۔