المستدرك على الصحيحين
كتاب الطهارة— طہارت کا بیان
كَانَ لَا يَتَوَضَّأُ بَعْدَ الْغُسْلِ باب: رسولُ اللہ ﷺ غسل کے بعد دوبارہ وضو نہیں فرماتے تھے۔
حدیث نمبر: 556
حدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا إسماعيل بن قُتَيبة، حدثنا يحيى بن يحيى قال: قرأتُ على شَرِيك. وأخبرني عبد الله بن محمد بن موسى، أخبرنا محمد بن أيوب، أخبرنا أبو الرَّبيع، حدثنا إسماعيل بن زكريا؛ قالا: حدثنا حُرَيث بن أبي مَطَر، عن الشَّعْبي، عن مسروق، عن عائشة: أنَّ النبي ﷺ كان يَستَدفئُ بها بعد الغُسْل (3).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وشواهده عن سعيد بن المسيّب وعُرْوة (1) عن عائشة، والطريق إليهما فاسد.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 549 - على شرط مسلمحافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ غسل کے بعد ان سے گرمائش حاصل فرمایا کرتے تھے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) إسناده ضعيف لضعف حريث بن أبي مطر. شريك: هو ابن عبد الله النخعي، وأبو الربيع: هو سليمان بن داود العَتَكي الزَّهْراني.
درجۂ حدیث: یہ سند "حریث بن ابی مطر" کے ضعف کی وجہ سے ضعیف ہے۔
فنی نکتہ / علّت: شریک سے مراد "ابن عبداللہ النخعی" اور ابوربیع سے مراد "سلیمان بن داؤد العتکی الزہرانی" ہیں۔
وأخرجه ابن ماجه (580) عن ابن أبي شيبة، عن شريك، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام ابن ماجہ نے (580) میں ابوبکر بن ابی شیبہ کے واسطے سے شریک بن عبداللہ کی اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه الترمذي (123) من طريق وكيع، عن حريث، به. وقال: هذا حديث ليس بإسناده بأس.
حوالہ / مصدر: اسے امام ترمذی نے (123) میں وکیع بن جراح کے طریق سے حریث بن ابی مطر سے روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: امام ترمذی نے فرمایا کہ اس کی سند میں کوئی حرج نہیں (متابعات کی بنا پر)۔
(1) في النسخ الخطية: وعبدة، وليس في هذه الطبقة من اسمه عبدة يروي عن عائشة، ولعلَّ الصواب ما أثبتنا. ولم نقف على هذين الطريقين فيما بين أيدينا من المصادر.
فنی نکتہ / علّت: خطی نسخوں میں "وعبدہ" لکھا ہے، جبکہ اس طبقے میں اس نام کا کوئی راوی نہیں جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتا ہو، لہٰذا درست وہی ہے جو ہم نے متن میں درج کیا ہے۔
نوٹ / توضیح: دستیاب مصادر میں ہمیں یہ دو طرق نہیں مل سکے۔
درجۂ حدیث: یہ سند "حریث بن ابی مطر" کے ضعف کی وجہ سے ضعیف ہے۔
فنی نکتہ / علّت: شریک سے مراد "ابن عبداللہ النخعی" اور ابوربیع سے مراد "سلیمان بن داؤد العتکی الزہرانی" ہیں۔
وأخرجه ابن ماجه (580) عن ابن أبي شيبة، عن شريك، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام ابن ماجہ نے (580) میں ابوبکر بن ابی شیبہ کے واسطے سے شریک بن عبداللہ کی اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه الترمذي (123) من طريق وكيع، عن حريث، به. وقال: هذا حديث ليس بإسناده بأس.
حوالہ / مصدر: اسے امام ترمذی نے (123) میں وکیع بن جراح کے طریق سے حریث بن ابی مطر سے روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: امام ترمذی نے فرمایا کہ اس کی سند میں کوئی حرج نہیں (متابعات کی بنا پر)۔
(1) في النسخ الخطية: وعبدة، وليس في هذه الطبقة من اسمه عبدة يروي عن عائشة، ولعلَّ الصواب ما أثبتنا. ولم نقف على هذين الطريقين فيما بين أيدينا من المصادر.
فنی نکتہ / علّت: خطی نسخوں میں "وعبدہ" لکھا ہے، جبکہ اس طبقے میں اس نام کا کوئی راوی نہیں جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتا ہو، لہٰذا درست وہی ہے جو ہم نے متن میں درج کیا ہے۔
نوٹ / توضیح: دستیاب مصادر میں ہمیں یہ دو طرق نہیں مل سکے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 556 سے ماخوذ ہے۔