المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
مُعْجِزَةُ رَمْيِ النَّبِيِّ الْحَصَاةَ وَانْهِزَامُ الْكُفَّارِ يَوْمَ حُنَيْنٍ باب: غزوۂ حنین کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کنکری پھینکنا اور کفار کا شکست کھا جانا (معجزہ)
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، قال: أخبرنا ابن وهب، أخبرني يونس، عن الزُّهْري، حدثني كَثِير بن العباس بن عبد المُطّلب قال: قال العباسُ: شهدتُ مع رسول الله ﷺ يومَ حُنين، فلَزِمتُ أنا وأبو سفيان بن الحارث بن عبد المُطّلب رسول الله ﷺ، فلم نُفارقه، ورسولُ الله ﷺ على بغلةٍ له بيضاءَ أهداها له فَرُوةُ بن نُفَاثَة (1) الجُذَامِي، فلما التَقَى المسلمون والكفارُ وَلَّى المسلمون مُديرين، فطَفِقَ رسولُ الله ﷺ يَركُضُ بَعْلتَه قِبَلَ الكفار، قال العباس: وأنا آخذٌ بِلِجَام بغلةِ رسولِ الله ﷺ أكُفُّها إرادة أن لا تُسرع، وأبو سفيان آخِذٌ بركاب رسول الله ﷺ فقال رسول الله ﷺ: "أَيْ عباسُ، نادِ أصحابَ السَّمُرةِ"، قال: فواللهِ لَكَأنّما عَطْفتُهم حين ما سَمِعُوا صوتي عطفة البقَرِ على أولادها، فقالوا: يا لَبَّيْكَاهُ يا لَبَّيْكَاهُ. قال: فاقتَتَلُوا هم والكفارُ، والدعوةُ في الأنصار يقولون: يا معشرَ الأنصار، ثم قُصرت الدَّعوةُ على بني الحارث بن الخَزرج، فقالوا: يا بني الحارث بن الخزرج، يا بني الحارث بن الخزرج، فنظر رسولُ الله ﷺ وهو على بَغْلَتِه كالمُتطاول عليها إلى قتالهم، فقال رسول الله ﷺ:: هذا حينَ حَمِيَ الوَطِيسُ"، قال: ثم أخَذَ رسولُ الله ﷺ حَصَيَاتٍ فرمى بهنَّ في وجوه الكُفّار، ثم قال: "انهَزَمُوا وربِّ محمّدٍ"، فذهبتُ أنظُرُ، فإذا القتالُ على هَيْئَتِه فيما أَرَى، فما هو إلَّا أن رَمَاهم رسولُ الله ﷺ بحَصَياتِه، فما زِلتُ أَرى حَدَّهم كَلِيلًا، وأمرهم مُدبرًا (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5418 - على أخرجه مسلمسیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں غزوہ حنین کے دن رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حاضر تھا۔ میں اور ابو سفیان بن حارث بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ چمٹے رہے اور ہم نے آپ کو تنہا نہیں چھوڑا۔ اس وقت رسول اللہ ﷺ اپنے ایک سفید خچر پر سوار تھے جو آپ کو فروہ بن نفاثہ جذامی نے ہدیہ کیا تھا۔ جب مسلمانوں اور کفار کا ٹکراؤ ہوا تو مسلمان پیٹھ پھیر کر واپس ہونے لگے۔ اس پر رسول اللہ ﷺ اپنے خچر کو کفار کی طرف دوڑانے لگے۔ عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے خچر کی لگام پکڑے اسے روک رہا تھا تاکہ وہ زیادہ تیز نہ دوڑے، اور ابو سفیان رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کی رکاب پکڑے ہوئے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے عباس! اصحابِ سمرہ (درخت کے نیچے بیعتِ رضوان کرنے والوں) کو آواز دو۔“ عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اللہ کی قسم! جب انہوں نے میری آواز سنی تو وہ اس طرح پلٹ کر آئے جیسے گائے اپنے بچھڑوں کی طرف بے تاب ہو کر پلٹتی ہے، اور انہوں نے کہا: ”ہم حاضر ہیں، ہم حاضر ہیں۔“ پھر وہ اور کفار آپس میں لڑنے لگے، اور انصار میں پکار لگائی جانے لگی، وہ کہہ رہے تھے: ”اے گروہِ انصار!“ پھر یہ پکار بنو حارث بن خزرج تک محدود ہو گئی، اور وہ کہنے لگے: ”اے بنو حارث بن خزرج! اے بنو حارث بن خزرج!“ رسول اللہ ﷺ اپنے خچر پر سوار گردن اٹھا کر ان کی لڑائی کو دیکھنے لگے، پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اب جنگ کے تنور نے جوش مارا ہے (یعنی جنگ خوب بھڑک اٹھی ہے)۔“ عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: پھر رسول اللہ ﷺ نے کچھ کنکریاں لیں اور انہیں کفار کے چہروں کی طرف پھینکا، پھر فرمایا: ”محمد (ﷺ) کے رب کی قسم! یہ شکست کھا گئے۔“ میں دیکھنے لگا تو جنگ کی کیفیت ابھی ویسی ہی تھی جیسی میں دیکھ رہا تھا، لیکن جونہی رسول اللہ ﷺ نے انہیں کنکریاں ماریں، تو اس کے بعد میں مسلسل ان کی طاقت کو کند پڑتا اور انہیں پسپا ہوتے ہوئے دیکھتا رہا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
فنی نکتہ / علّت: (1) یہ نام "تلخیص المستدرک" سے درست کیا گیا ہے۔ نسخہ (ز) میں "نفاقة" ہے جو کہ تصحیف (غلطی) ہے، شاید اصل میں یہ "نعامۃ" تھا پھر نقطوں میں ردوبدل ہوگیا۔ مطبوعہ نسخے میں "نعامۃ" ہے۔ امام نووی نے اشارہ کیا ہے کہ صحیح مسلم میں یہ دونوں روایتیں آئی ہیں، پھر فرمایا: "صحیح اور معروف پہلا نام ہے"؛ یعنی "نُفَاثَة" (نون پر پیش، فا خفیف، پھر الف اور آخر میں ثائے مثلثہ کے ساتھ)۔
(1) إسناده صحيح. ابن وهب: هو عبد الله، ويونس: هو ابن يزيد الأيلي.
درجۂ حدیث: (1) اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: راوی "ابن وہب" سے مراد عبد اللہ بن وہب ہیں اور "یونس" سے مراد یونس بن یزید الایلی ہیں۔
وأخرجه مسلم (1775) عن أبي الطاهر أبي الطاهر أحمد بن عمرو السَّرْح، والنسائي (8599) عن يونس بن عبد الأعلى، كلاهما عن عبد الله بن وهب، بهذا الإسناد. فاستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
حوالہ / مصدر: اس حدیث کو امام مسلم (1775) نے ابو الطاہر احمد بن عمرو السرح سے، اور نسائی (8599) نے یونس بن عبد الأعلیٰ سے، اور ان دونوں نے عبد اللہ بن وہب سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
فنی نکتہ / علّت: لہٰذا امام حاکم کا اسے (مستدرک میں لانا اور) استدراک کرنا ان کا وہم ہے (کیونکہ یہ تو صحیح مسلم میں موجود ہے)۔
وقد تقدم مختصرًا برقم (5192) من طريق سفيان بن عيينة عن الزهري.
نوٹ / توضیح: یہ روایت اس سے قبل مختصر طور پر حدیث نمبر (5192) کے تحت سفیان بن عیینہ عن الزہری کے طریق سے گزر چکی ہے۔
وعَطْفتُهم، أي: رَجْعتُهم.
نوٹ / توضیح: "عَطْفَتُهُمْ" کا معنی ہے: ان کی واپسی (پلٹنا)۔
والوَطِيس: مثل التَّنُّور يُختَبز فيه، وقولهم: حمي الوطيس، كناية عن الوطيس، كناية عن شدة الحرب.
نوٹ / توضیح: "الْوَطِيس": تندور کی طرح ہوتا ہے جس میں روٹی پکائی جاتی ہے۔ محاورہ "حَمِيَ الْوَطِيسُ" (تندور گرم ہوگیا) جنگ کی شدت سے کنایہ ہے۔
وحدَّهم كليلًا: أي: قوّتهم ضعيفة.
نوٹ / توضیح: "حَدُّهُمْ كَلِيلًا": یعنی ان کی قوت و طاقت کمزور پڑ گئی۔