المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
ذِكْرُ إِسْلَامِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ باب: سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے کا بیان
أخبرنا الحسين بن علي، أخبرنا أحمد بن محمد بن الحُسين، حدَّثنا عمرو (2) بن زُرَارة، حدَّثنا زياد بن عبد الله، عن محمد بن إسحاق [حدثني يزيد بن أبي حبيب] (3) عن راشد مولى حَبيب بن أبي أوس، عن حَبيب بن أبي أوس، حدثني عمرو بن العاص مِن فِيه، قال: خرجت عامدًا إلى رسول الله ﷺ، فلقيتُ خالدَ بنَ الوليد، وذلك قُبيلَ الفتح، وهو مُقبلٌ من مكةَ، فقلت: أين تُريد يا أبا سُليمان؟ فقال: والله لقد استقام المِيسَمُ، وإنَّ الرجلَ لَنبيٌّ، أذهبُ فأُسلِمُ، فحتى متى؟! قال: فقدِمْنا المدينةَ على رسول الله ﷺ، وتَقدَّم خالدُ بن الوليد فأسلَمَ وبايَعَ، ثم دَنَوتُ فبايعتُ وانصرفتُ (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5293 - سكت عنه الذهبي في التلخيصسیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے براہِ راست بیان کیا: میں (اسلام قبول کرنے کے) ارادے سے رسول اللہ ﷺ کی طرف نکلا تو راستے میں خالد بن ولید سے ملاقات ہوئی، یہ فتحِ مکہ سے کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے اور وہ مکہ سے آ رہے تھے، میں نے پوچھا: اے ابو سلیمان! کہاں کا ارادہ ہے؟ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! راستہ واضح ہو چکا ہے، یقیناً وہ شخص (محمد ﷺ) اللہ کے نبی ہیں، میں جا کر اسلام قبول کر رہا ہوں، آخر کب تک (حق سے دور رہوں گا)؟ وہ بیان کرتے ہیں کہ پھر ہم رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں مدینہ حاضر ہوئے، خالد بن ولید نے آگے بڑھ کر اسلام قبول کیا اور بیعت کی، پھر میں نے قریب ہو کر بیعت کی اور واپس لوٹ آیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
نوٹ / توضیح: (2) قلمی نسخوں میں یہ نام تحریف ہو کر "عمر" ہو گیا تھا، جبکہ یہ "عمرو بن زرارہ بن واقد الکلابی" ہے۔ ان کے طبقے میں ایک اور راوی "عمر بن زرارہ الحَدَثی" ہیں، وہ بھی ان کی طرح ثقہ ہیں، لیکن "عمرو بن زرارہ الکلابی" ہی وہ ہیں جو "زیاد بن عبد اللہ البکائی" سے روایت کرتے ہیں۔
(3) سقط اسم يزيد بن أبي حبيب من نسخنا الخطية، وهو ثابت في "السيرة النبوية" 2/ 276 برواية ابن هشام عن زياد بن عبد الله البكائي عن ابن إسحاق، كما أنه ثابت أيضًا في رواية يونس بن بُكَير عن ابن إسحاق الآتية عند المصنف برقم (6025)، وثبت كذلك في سائر الروايات عن ابن إسحاق.
نوٹ / توضیح: (3) ہمارے قلمی نسخوں سے "یزید بن ابی حبیب" کا نام ساقط ہو گیا تھا۔ یہ "السیرۃ النبویۃ" (2/ 276) میں ابن ہشام کی روایت میں (عن زیاد بن عبد اللہ البکائی عن ابن اسحاق) ثابت ہے۔ اسی طرح یونس بن بکیر کی روایت (عن ابن اسحاق) میں بھی ثابت ہے جو مصنف کے ہاں آگے نمبر (6025) پر آئے گی، اور ابن اسحاق سے مروی دیگر تمام روایات میں بھی ثابت ہے۔
(1) خبر حسنٌ، وهذا إسناد رجاله لا بأس بهم غير راشدٍ مولى حبيب بن أبي أوس - ويقال: حبيب بن أوس - ففيه جهالة، غير أنه وإن كان كذلك فلا بأس بروايته لهذا الخبر، لمجيئه من وجه آخر عن عمرو بن العاص يحسُن به الخبر إن شاء الله.
درجۂ حدیث: (1) یہ خبر "حسن" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اس سند کے راویوں میں کوئی حرج نہیں، سوائے "راشد مولیٰ حبیب بن ابی اوس" کے (جنہیں حبیب بن اوس بھی کہا جاتا ہے)، ان میں "جہالت" ہے۔ تاہم اس کے باوجود اس خبر کے روایت کرنے میں کوئی حرج نہیں، کیونکہ یہ عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے دوسرے طریق سے بھی مروی ہے جس سے یہ خبر ان شاء اللہ "حسن" ہو جاتی ہے۔
وأخرجه أحمد 29/ (17777)، من طريق إبراهيم بن سعد الزهري، عن محمد بن إسحاق، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (29/ 17777) نے ابراہیم بن سعد الزہری کے طریق سے، انہوں نے محمد بن اسحاق سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
وسيأتي برقم (6025) من طريق يونس بن بُكَير عن محمد بن إسحاق.
حوالہ / مصدر: یہ آگے نمبر (6025) پر یونس بن بُکیر کے طریق سے آئے گا جو محمد بن اسحاق سے روایت کرتے ہیں۔
وقد رويت قصة إسلام عمرو بن العاص وخالد بن الوليد من وجه آخر عند الواقدي في "مغازيه" 2/ 741 - 745، وعنه ابن سعد في "طبقاته" 5/ 47 - 50، ورجاله من فوق الواقدي ثقات غير أنَّ راويه عن عمرو بن العاص يبعد إدراكه له، وعلى أي حالٍ فيصلح للاعتبار، والواقدي يُكتب حديثه في المتابعات والشواهد.
حوالہ / مصدر: عمرو بن العاص اور خالد بن ولید کے اسلام لانے کا قصہ ایک اور طریق سے واقدی کی "المغازی" (2/ 741-745) میں مروی ہے، اور ان سے ابن سعد نے "الطبقات" (5/ 47-50) میں نقل کیا ہے۔
فنی نکتہ / علّت: واقدی سے اوپر کے راوی ثقہ ہیں، لیکن عمرو بن العاص سے روایت کرنے والے کا انہیں پانا (ادراک) بعید ہے۔ بہرحال یہ "اعتبار" کے قابل ہے، اور واقدی کی حدیث متابعات اور شواہد میں لکھی جاتی ہے۔
وقوله: استقام المِيسَم: بكسر الميم وسكون الياء التحتانية وفتح السين المهملة، أي: قد تبين الأمر واستقامت الدلالة، والمِيسَمُ: العلامة. قاله السُّهيلي في "الروض الأنف" 6/ 286، وقال: ومن رواه بفتح الميم وبالنون فمعناه: استقام الطريق ووجبت الهجرة، والمَنْسم: مقدَّم خُفّ البعير، وكنى به عن الطريق للتوجه به فيه.
نوٹ / توضیح: "استقام المِيسَم" (میم کے زیر، یاء کے سکون اور سین کے زبر کے ساتھ): یعنی معاملہ واضح ہو گیا اور دلیل سیدھی ہو گئی (حق ظاہر ہو گیا)۔ "المیسم" کا معنی ہے: علامت۔ یہ سہیلی نے "الروض الانف" (6/ 286) میں کہا ہے۔ اور انہوں نے کہا: جس نے اسے میم کے زبر اور نون کے ساتھ (المَنْسَم) روایت کیا ہے تو اس کا معنی ہے: راستہ سیدھا ہو گیا اور ہجرت واجب ہو گئی۔ "المَنْسَم" اونٹ کے پاؤں (خُف) کا اگلا حصہ ہے، اور اس سے راستے کی طرف کنایہ کیا جاتا ہے کیونکہ اسی کے ذریعے اس پر چلا جاتا ہے۔