حدیث نمبر: 5366
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدَّثنا إبراهيم بن إسحاق، حدَّثنا مصعب بن عبد الله الزُّبَيري، قال: اسمُ الحَضْرمي والدِ العلاء عبدُ الله بن عباد بن أكبَرَ (2) بن رَبيعة بن مالك بن عُوَيف (3) بن مالك بن الخَزْرج، وكان حليفَ حَرْب بن أُميّة، وإنما قيل له: الحضرميُّ، لأنه أتى من حَضْرمَوت، وكان رسولُ الله ﷺ استعملَه على البَحرَين، ثم إنَّ عمر استعملَه على البَحرَين، فتوفي بها، فاستعمل مكانَه أبا هُريرة الدَّوسي، قال: وإنما توفي العلاء بن الحَضْرمي بالبَحرَين سنة إحدى وعشرين (1). ذكرُ الأسوَد بن خَلَف بن عبد يَغُوثَ ﵁ -
حافظ طلحہ بابر

مصعب بن عبد اللہ زبیری بیان کرتے ہیں کہ علاء کے والد حضرمی کا نام عبد اللہ بن عباد بن اکبر بن ربیعہ بن مالک بن عویف بن مالک بن خزرج تھا، وہ حرب بن امیہ کے حلیف تھے، اور انہیں ”حضرمی“ اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ وہ حضرموت سے آئے تھے، رسول اللہ ﷺ نے انہیں بحرین کا گورنر مقرر فرمایا تھا، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بھی انہیں بحرین پر ہی مقرر رکھا، وہیں ان کا انتقال ہوا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کی جگہ سیدنا ابوہریرہ دوسی رضی اللہ عنہ کو مقرر کیا، آپ نے مزید کہا کہ علاء بن حضرمی کی وفات بحرین میں سن 21 ہجری میں ہوئی۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5366
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 5366] [ترقيم الشركة 5320]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) وقع في نسخنا الخطية هنا: عتاب بن جبير، وهو تحريفٌ صوَّبناه من الرواية الآتية برقم (6822) حيث كرر المصنف هناك ذكر العلاء بن الحضرمي، وأعاد النقل عن مصعب الزبيري في تسمية الحضرمي والد العلاء، وفاقًا لقول أبي عُبيد معمر بن المثنى في تسمية هذين الجدين كما أسنده عنه الطبراني في "الكبير" 18/ (164) وكذلك سماهما ابن هشام في "السيرة" 1/ 229، وخليفةُ بنُ خياط في "الطبقات" ص 12 و 18، لكن مع تقديم اسم ربيعة على أكبر، وزيادة ذكر مالك بين عبّاد وربيعة.
نوٹ / توضیح: (2) ہمارے قلمی نسخوں میں یہاں "عتاب بن جبیر" لکھا گیا تھا جو کہ تحریف ہے۔ ہم نے اس کی تصحیح اگلی روایت نمبر (6822) سے کی ہے، جہاں مصنف نے علاء بن الحضرمی کا ذکر دوبارہ کیا اور ان کے والد الحضرمی کا نام مصعب الزبیری سے نقل کیا، جو ابو عبید معمر بن المثنیٰ کے قول کے موافق ہے (جیسا کہ طبرانی نے 18/ 164 میں مسنداً بیان کیا)۔ اسی طرح ابن ہشام نے "السیرۃ" (1/ 229) اور خلیفہ بن خیاط نے "الطبقات" (ص 12, 18) میں ان دونوں کے نام ذکر کیے ہیں، لیکن وہاں "ربیعہ" کو "اکبر" پر مقدم کیا گیا ہے اور عباد اور ربیعہ کے درمیان "مالک" کا اضافہ ہے۔
وانظر تعليق المعلِّمي اليماني على "الإكمال" لابن ماكولا 6/ 48 حيث بسط الخلاف في عباد.
حوالہ / مصدر: مزید دیکھیں: معلمی یمانی کا "الاکمال" (ابن ماکولا) پر حاشیہ (6/ 48)، جہاں انہوں نے "عباد" کے بارے میں اختلاف کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔
(3) كذلك وقع عند المصنف تسمية هذا الرجل عُويفًا، تصغير عوف، وكذلك سماه بعض أهل النسب كخليفة بن خياط، وسماه آخرون عُريفًا، بالراء بدل الواو، وذكر السمعاني وابن الأثير وابن حجر أنَّ العُريفي مصغرًا نسبةٌ إليه.
نوٹ / توضیح: (3) مصنف کے ہاں اس آدمی کا نام "عُوَیف" (عوف کی تصغیر) آیا ہے، اسی طرح بعض ماہرینِ انساب جیسے خلیفہ بن خیاط نے نام دیا ہے۔ جبکہ دوسروں نے اسے "عُرَیف" (راء کے ساتھ) کہا ہے۔ سمعانی، ابن اثیر اور ابن حجر نے ذکر کیا ہے کہ "العُرَیفی" (تصغیر کے ساتھ) اسی کی طرف نسبت ہے۔
(1) انظر "نسب قريش" لمصعب الزبيري ص 366.
حوالہ / مصدر: (1) دیکھیں: مصعب الزبیری کی "نسب قریش" (ص 366)۔
وانظر كذلك "الطبقات" لابن سعد 5/ 276 - 277 و 279 و "المؤتلف والمختلف" للدارقطني 4/ 1801 - 1802.
حوالہ / مصدر: نیز دیکھیں: "الطبقات" از ابن سعد (5/ 276-277, 279) اور "المؤتلف والمختلف" از دارقطنی (4/ 1801-1802)۔
واستعمال النبي ﷺ للعلاء بن الحضرمي على البحرين ثابت في "صحيح البخاري" (3158) و "صحيح مسلم" (2961) من حديث المسور بن مخرمة.
حوالہ / مصدر: نبی ﷺ کا علاء بن الحضرمی کو بحرین پر عامل (گورنر) بنانا "صحیح بخاری" (3158) اور "صحیح مسلم" (2961) میں مِسوَر بن مخرمہ کی حدیث سے ثابت ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5366 سے ماخوذ ہے۔