المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
ذِكْرُ مَنَاقِبِ قَتَادَةَ بْنِ النُّعْمَانِ الظَّفَرِيِّ وَهُوَ أَخُو أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ لِأُمِّهِ باب: سیدنا قتادہ بن نعمان ظفری رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان، جو امّی رشتے سے سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے بھائی تھے
حدَّثنا أبو عبد الله الأصبهاني، حدَّثنا محمد بن رُسْتَه الأصبهاني، حدَّثنا سليمان بن داود الشاذكُوني، حدَّثنا محمد بن عمر، قال: وقَتَادة بن النُّعمان بن زَيد بن عَمرو بن سَوَاد بن ظَفَر - واسمُ ظَفَر كعبٌ - بن الخَزْرج بن عمرو - وهو النَّبِيت - ابن مالك بن أوس، وكان قَتَادة يُكنى أبا عمرو، وهو جَدُّ عاصم ويعقوب ابنَي عُمر بن قَتَادة، وكان عاصم بن عُمر من العلماء بالسِّيَر وغيرها، وشَهِد قَتَادة بن النُّعمان العقَبةَ مع السبعين من الأنصار، وكان من الرُّماة المذكورين من أصحاب رسول الله ﷺ، شهد بدرًا وأحُدًا، ورُمِيَت عينُه يومَ أحُد، فسالَتْ حَدَقَتُه على وَجْنَتِه، فأتى رسول الله ﷺ، فقال: يا رسول الله، إنَّ عندي امرأةً أُحِبُّها، وإن هي رأت عَيني خَشِيتُ تَقذَرُها، فردَّها رسولُ الله ﷺ بيده فاستَوتْ ورجعت، وكانت أقوى عينَيه وأصحَّهما بعد أن كَبِر، وشهد أيضًا الخندقَ والمَشاهِد كلَّها مع رسول الله ﷺ، وكانت معه رايةُ بني ظَفَرٍ في غزوة الفتح (2).
محمد بن عمر سے روایت ہے کہ سیدنا قتادہ بن نعمان بن زید رضی اللہ عنہ، جو سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے مادری بھائی تھے، وہ ان ستر انصار میں شامل تھے جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ بیعتِ عقبہ میں شرکت فرمائی تھی، اور وہ رسول اللہ ﷺ کے نامور تیر انداز صحابہ میں سے تھے۔ انہوں نے غزوہ بدر اور غزوہ احد میں شرکت فرمائی، احد کے دن ان کی آنکھ (زخم لگنے کی وجہ سے نکل کر) ان کے رخسار پر آ گئی، تو وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! میری ایک بیوی ہے جس سے میں بہت محبت کرتا ہوں، مجھے اندیشہ ہے کہ اگر وہ میری یہ (خراب) آنکھ دیکھے گی تو اسے کراہت محسوس ہوگی، چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے دستِ مبارک سے اسے (دوبارہ اپنی جگہ پر) لوٹا دیا تو وہ بالکل درست ہو گئی اور بڑھاپے کے باوجود ان کی دونوں آنکھوں میں سے سب سے زیادہ روشن اور صحیح آنکھ وہی رہی۔ انہوں نے غزوہ خندق اور رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ تمام غزوات میں شرکت فرمائی، اور فتحِ مکہ کے موقع پر بنو ظفر کا علم ان کے پاس تھا۔
تشریح، فوائد و مسائل
حوالہ / مصدر: (2) یہ ابن سعد کی "الطبقات الکبریٰ" (3/ 418-419) میں ہے۔
اہم نکتہ: قتادہ بن النعمان کو عقبہ میں شریک ہونے والے ستر صحابہ میں شمار کرنے والوں میں ہشام بن الکلبی ("نسب معدّ"، 1/ 382)، خلیفہ ("الطبقات"، ص 81) اور ابن شہاب الزہری (بحوالہ "اخبار مکہ"، 2547 اور "الآحاد والمثانی"، 1823) وغیرہ شامل ہیں۔ ابن سعد (3/ 418) نے کہا: "محمد بن اسحاق نے اپنی کتاب میں عقبہ کے شرکاء میں ان کا ذکر نہیں کیا!"
وشهوده أُحُدًا وإصابته في حدقته ثم إعادة رسولِ الله ﷺ لها كما كانت وأحسن، رواه حفيدُه عاصم بن عمر بن قتادة عند ابن هشام في "السيرة" 2/ 82، وابن سعد 3/ 419، وابن أبي شيبة 12/ 161 و 14/ 397. وبعضهم وصله بذكر عمر بن قتادة عن أبيه قتادة بن النعمان، وبعضهم جعله عن عاصم عن جده قتادة مباشرة، وبعضهم يجعله عن عاصم عن محمود بن لبيد، وكل ذلك فيه مقالٌ، وأصحها المرسل، وعاصم هذا تابعي جليل والقصةُ حصلت لجده فهو أعلم بها، فمرسله هذا صحيح إن شاء الله.
حوالہ / مصدر: ان کے احد میں شریک ہونے اور آنکھ (پتلی) میں چوٹ لگنے اور پھر رسول اللہ ﷺ کے اسے واپس جوڑ دینے (جس سے وہ پہلے سے بھی بہتر ہو گئی) کی روایت ان کے پوتے عاصم بن عمر بن قتادہ نے ابن ہشام کی "السیرۃ" (2/ 82)، ابن سعد (3/ 419) اور ابن ابی شیبہ (12/ 161, 14/ 397) میں بیان کی ہے۔
فنی نکتہ / علّت: بعض نے اسے عمر بن قتادہ کے واسطے سے اپنے والد قتادہ بن النعمان سے موصول بیان کیا، بعض نے عاصم سے براہ راست ان کے دادا قتادہ سے، اور بعض نے عاصم سے محمود بن لبید سے۔ ان سب میں کلام ہے، اور سب سے صحیح "مرسل" روایت ہے۔
اہم نکتہ: عاصم جلیل القدر تابعی ہیں اور قصہ ان کے دادا کا ہے، لہذا وہ اس کے بارے میں زیادہ بہتر جانتے ہیں، پس ان کی یہ مرسل روایت ان شاء اللہ "صحیح" ہے۔