حدیث نمبر: 5275
أخبرنا الحسين بن الحسن بن أيوب، حدثنا أبو يحيى بن أبي مَسَرّة، حدثنا عبد الله بن يزيد المُقرئ، حدثنا حَيْوةُ بن شُرَيح، سمعتُ عُقبةَ بن مُسلِم يقول: حدثني أبو عبد الرحمن الحُبُلي، عن الصُّنابِحِيّ، عن معاذ بن جَبَل قال: أخذَ رسولُ الله ﷺ بيدي يومًا ثم قال: "يا مُعاذُ، والله أني لأُحِبُّك" فقلتُ له: بأبي وأمي يا رسول الله، وأنا والله أُحِبُّك، فقال: "أُوصيك يا معاذُ، لا تَدَعَنَّ فِي دُبُرِ كلِّ صلاةٍ أن تقولَ: اللهمَّ أعِنِّي على ذِكْرِك وشُكْرِك وحُسنِ عِبادتِك". وأوصَى بذلك مُعاذٌ الصُّنَابِحيَّ، وأوصى الصُّنَابحيُّ أبا عبد الرحمن الحُبُلي، وأوصَى أبو عبد الرحمن عُقبةَ بن مُسلم (1). صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5194 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ نے میرا ہاتھ تھاما اور فرمایا: ”اے معاذ! اللہ کی قسم، میں تم سے محبت کرتا ہوں“، میں نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، اللہ کی قسم میں بھی آپ سے محبت کرتا ہوں“، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے معاذ! میں تمہیں وصیت کرتا ہوں کہ ہر نماز کے بعد یہ کہنا کبھی نہ چھوڑنا: «اللَّهُمَّ أعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ وَشُكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ» ”اے اللہ! اپنے ذکر، شکر اور اپنی بہترین عبادت پر میری مدد فرما۔““ اور معاذ نے یہی وصیت صنابحی کو کی، صنابحی نے ابو عبدالرحمن حبلی کو اور ابو عبدالرحمن نے عقبہ بن مسلم کو یہی وصیت فرمائی۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5275
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،وهو مكرر الحديث المتقدم برقم (1023).» [ترقيم الرساله 5275] [ترقيم الشركة 5230] [ترقيم العلميه 5194]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح. وهو مكرر الحديث المتقدم برقم (1023).
درجۂ حدیث: (1) اس کی سند صحیح ہے۔
نوٹ / توضیح: یہ حدیث نمبر (1023) پر گزرنے والی حدیث ہی کا تکرار ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5275 سے ماخوذ ہے۔