المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
الْتَمِسُوا الْعِلْمَ عِنْدَ أَرْبَعَةٍ باب: چار اشخاص سے علم حاصل کرنے کا حکم
حدیث نمبر: 5264
أخبرنا أبو نُعيم محمد بن عبد الرحمن بن نَصْر الغِفاري بمَرُو، حدثنا عَبْدان بن محمد بن عيسى الحافظ، حدثنا قُتيبة بن سعيد، حدثنا الليث، عن مُعاوية بن صالح، عن رَبيعة بن يزيد، عن أبي إدريس الخَوْلاني، عن يزيد بن عَمِيرة، قال: لما حَضَرَ معاذَ بنَ جَبَل الموتُ قيل له: أَوصِنا يا أبا عبد الرحمن، قال: أجلسوني، فإنَّ العلمَ والإيمانَ مكانَهما، مَن ابتَغاهُما وَجَدَهُما - يقول ذلك ثلاثَ مَرّات - فالتمِسُوا العلمَ عند أربعةٍ: عند عُويمِر أبي الدَّرْداء، وعند سلمان الفارسي، وعند عبد الله بن مسعود، وعند عبد الله بن سَلَام الذي كان يهوديًا فأسلم، فإني سمعتُ رسول الله ﷺ يقول: "إنه عاشرُ عَشَرةٍ في الجنة" (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5183 - صحيححافظ طلحہ بابر
یزید بن عمیرہ سے روایت ہے کہ جب سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت قریب آیا تو ان سے عرض کیا گیا: اے ابو عبدالرحمن! ہمیں وصیت فرمائیے، انہوں نے کہا: مجھے بٹھا دو، (پھر کہا): علم اور ایمان اپنی جگہ پر موجود ہیں، جو ان کا طلبگار ہوگا وہ انہیں پا لے گا - انہوں نے یہ بات تین بار کہی - پس تم علم ان چار لوگوں کے پاس تلاش کرو: عویمر ابو درداء، سلمان فارسی، عبداللہ بن مسعود، اور عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہم کے پاس جو یہودی تھے پھر مسلمان ہو گئے، کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”بیشک وہ جنت میں جانے والے دس (بشر مبشر) میں دسویں ہیں۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح. الليث: هو ابن سعد، وأبو إدريس الخَولاني: هو عائذ الله بن عبد الله.
درجۂ حدیث: (1) اس کی سند صحیح ہے۔
نوٹ / توضیح: "لیث" سے مراد: لیث بن سعد ہیں، اور "ابو ادریس الخولانی" سے مراد: عائذ اللہ بن عبد اللہ ہیں۔
وأخرجه أحمد 36/ (22104)، والترمذي (3804)، والنسائي (8196) عن قتيبة بن سعيد، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (36/ 22104)، ترمذی (3804) اور نسائی (8196) نے قتیبہ بن سعید سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
وقد تقدَّم عند المصنف برقم (338) من طريقين آخرين عن معاوية بن صالح.
حوالہ / مصدر: یہ روایت مصنف (حاکم) کے ہاں پہلے نمبر (338) کے تحت معاویہ بن صالح سے دو دیگر طرق کے ساتھ گزر چکی ہے۔
وسيأتي برقم (5867) من طريق يحيى بن عبد الله بن بُكَير عن الليث بن سعد.
حوالہ / مصدر: یہ روایت آگے نمبر (5867) کے تحت یحییٰ بن عبد اللہ بن بُکیر کے طریق سے آئے گی جو لیث بن سعد سے روایت کرتے ہیں۔
درجۂ حدیث: (1) اس کی سند صحیح ہے۔
نوٹ / توضیح: "لیث" سے مراد: لیث بن سعد ہیں، اور "ابو ادریس الخولانی" سے مراد: عائذ اللہ بن عبد اللہ ہیں۔
وأخرجه أحمد 36/ (22104)، والترمذي (3804)، والنسائي (8196) عن قتيبة بن سعيد، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (36/ 22104)، ترمذی (3804) اور نسائی (8196) نے قتیبہ بن سعید سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
وقد تقدَّم عند المصنف برقم (338) من طريقين آخرين عن معاوية بن صالح.
حوالہ / مصدر: یہ روایت مصنف (حاکم) کے ہاں پہلے نمبر (338) کے تحت معاویہ بن صالح سے دو دیگر طرق کے ساتھ گزر چکی ہے۔
وسيأتي برقم (5867) من طريق يحيى بن عبد الله بن بُكَير عن الليث بن سعد.
حوالہ / مصدر: یہ روایت آگے نمبر (5867) کے تحت یحییٰ بن عبد اللہ بن بُکیر کے طریق سے آئے گی جو لیث بن سعد سے روایت کرتے ہیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5264 سے ماخوذ ہے۔