حدیث نمبر: 5258
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، أخبرني مالك بن أنس، عن أبي حازم بن دينار، عن أبي إدريس الخَوْلاني، قال: دخلتُ مسجدَ دمشقَ، فإذا أنا برجُل بَرّاقِ الثَّنايا، طويلِ الصَّمت، وإذا الناسُ معه إذا اختلفُوا في شيءٍ أسنَدُوه إليه، وصَدَرُوا عن رأيِه، فسألتُ عنه، فقيل: معاذُ بنُ جَبَل (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5177 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر

ابو ادریس خولانی کہتے ہیں کہ میں دمشق کی مسجد میں داخل ہوا تو وہاں ایک ایسے شخص کو دیکھا جن کے سامنے کے دانت چمکدار تھے اور وہ زیادہ تر خاموش رہتے تھے، جب لوگوں کا کسی بات میں اختلاف ہوتا تو وہ انہی کی طرف رجوع کرتے اور ان کی رائے پر عمل کرتے ہوئے مطمئن ہو کر لوٹتے، میں نے ان کے بارے میں پوچھا تو بتایا گیا کہ یہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ہیں۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5258
درجۂ حدیث محدثین: رجاله ثقات
تخریج حدیث «رجاله ثقات، لكن اختُلف في سماع أبي إدريس الخولاني - وهو عائد الله بن عبد الله - من معاذ بن جبل كما سيأتي بيانه عند الرواية (7502) حيث روى المصنف الحديث هناك تامًّا وأورد طُرقه. وقوله: برّاق الثنايا، وصف ثناياه بالحسن والصفاء، وأنها تلمع إذا تبسّم كالبرق، وأراد صفة وجهه ...» [ترقيم الرساله 5258] [ترقيم الشركة 5213] [ترقيم العلميه 5177]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) رجاله ثقات، لكن اختُلف في سماع أبي إدريس الخولاني - وهو عائد الله بن عبد الله - من معاذ بن جبل كما سيأتي بيانه عند الرواية (7502) حيث روى المصنف الحديث هناك تامًّا وأورد طُرقه. وقوله: برّاق الثنايا، وصف ثناياه بالحسن والصفاء، وأنها تلمع إذا تبسّم كالبرق، وأراد صفة وجهه بالبشر والطلاقة.
درجۂ حدیث: (3) اس کے تمام راوی ثقہ ہیں، لیکن ابو ادریس الخولانی (عائذ اللہ بن عبد اللہ) کے سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے سماع (سننے) میں اختلاف ہے۔
تفصیلِ روایت: اس کی تفصیل روایت نمبر (7502) کے تحت آئے گی جہاں مصنف (حاکم) نے مکمل حدیث اور اس کے تمام طرق ذکر کیے ہیں۔
نوٹ / توضیح: "برّاق الثنايا" سے مراد: ان کے سامنے کے دانتوں کا حسن اور صفائی ہے کہ جب وہ مسکراتے تو وہ دانت بجلی کی طرح چمکتے تھے، اور اس سے مراد ان کے چہرے کی رونق اور بشاشت بھی ہے۔
وقوله: أسندوه إليه، معناه: رفعُوه إليه وأوكلوه به ثقةً منهم به.
نوٹ / توضیح: "أسندوه إليه" کا معنی ہے: لوگوں نے معاملہ ان کی طرف اٹھایا (لوٹایا) اور ان پر اعتماد کرتے ہوئے فیصلہ ان کے سپرد کر دیا۔
وصدَرُوا عن رأيه: فعلوا ما يأمرهم به ونفَّذوا ما يُشير به عليهم.
نوٹ / توضیح: "صدَرُوا عن رأيه" کا مطلب ہے: لوگوں نے وہی کیا جس کا انہوں نے حکم دیا اور اسی بات کو نافذ کیا جس کا انہوں نے مشورہ دیا۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5258 سے ماخوذ ہے۔