المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
كَانَ شِعَارُ بَنِي الْأَسَدِ يَا مَبْرُورُ باب: بنو اسد کا شعار یہ تھا: یا مبرور
حدیث نمبر: 5213
أخبرني محمد بن القاسم بن عبد الرحمن العَتَكي، حدثنا الفضل ابن محمد، حدثنا إسحاق بن محمد الفَرْوي، حدثنا عبد الله بن جعفر المَخْرَمي (1)، عن عبد الواحد بن أبي عَون الدَّوْسي، عن الطُّفيل بن عمرو، قال: قلنا: يا رسول الله، اجعلْنا مَيمَنتَك واجعل شعارَنا: يا مَبرُورُ، ففَعَل ﷺ، فشِعارُ الأزْدِ كلِّها إلى اليوم: مَبرُور (2). صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، إن لم يكن مرسلًا. وقد أدركَ عمرُو بن الطُّفيل بن عَمرو رسولَ الله ﷺ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5132 - صحيح مرسلحافظ طلحہ بابر
سیدنا طفیل بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمیں (لشکر کا) دایاں بازو بنا دیں اور ہمارا شعار (جنگی نعرہ) «يَا مَبْرُورُ» ”اے نیکی پانے والے“ مقرر فرما دیں، آپ ﷺ نے ایسا ہی کیا، چنانچہ آج تک تمام قبیلہ ازد کا شعار ”مبرور“ ہی ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے بشرطیکہ یہ مرسل نہ ہو۔ اور عمرو بن طفیل بن عمرو نے بھی رسول اللہ ﷺ کا عہد پایا ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) تحرَّف في (ز) و (ب) إلى: المخزومي. وإنما هو المَخرمي نسبة لجده مَخرمة وهو والد المسور.
فنی نکتہ / علّت: (1) نسخہ (ز) اور (ب) میں یہ تحریف ہو کر "المخزومی" ہو گیا ہے۔ جبکہ درست "المخرمی" ہے جو ان کے دادا "مخرمہ" (مسور کے والد) کی طرف نسبت ہے۔
(2) لا بأس برجاله، لكنه منقطع لأنَّ عبد الواحد بن أبي عون الدَّوْسي لم يدرك الطفيل بن عمرو.
درجۂ حدیث: (2) اس کے راویوں میں "کوئی حرج نہیں"، لیکن یہ "منقطع" ہے، کیونکہ عبدالواحد بن ابی عون الدوسی نے طفیل بن عمرو کا زمانہ نہیں پایا۔
وقد تقدَّم ذكر شعار الأزد من حديث ابن عباس برقم (2542)، لكن إسناده ضعيف جدًّا، فيه رجل متروك.
نوٹ / توضیح: قبیلہ ازد کے شعار کا ذکر ابن عباس کی حدیث سے نمبر (2542) پر گزر چکا ہے، لیکن اس کی سند "انتہائی ضعیف" ہے، اس میں ایک "متروک" راوی ہے۔
فنی نکتہ / علّت: (1) نسخہ (ز) اور (ب) میں یہ تحریف ہو کر "المخزومی" ہو گیا ہے۔ جبکہ درست "المخرمی" ہے جو ان کے دادا "مخرمہ" (مسور کے والد) کی طرف نسبت ہے۔
(2) لا بأس برجاله، لكنه منقطع لأنَّ عبد الواحد بن أبي عون الدَّوْسي لم يدرك الطفيل بن عمرو.
درجۂ حدیث: (2) اس کے راویوں میں "کوئی حرج نہیں"، لیکن یہ "منقطع" ہے، کیونکہ عبدالواحد بن ابی عون الدوسی نے طفیل بن عمرو کا زمانہ نہیں پایا۔
وقد تقدَّم ذكر شعار الأزد من حديث ابن عباس برقم (2542)، لكن إسناده ضعيف جدًّا، فيه رجل متروك.
نوٹ / توضیح: قبیلہ ازد کے شعار کا ذکر ابن عباس کی حدیث سے نمبر (2542) پر گزر چکا ہے، لیکن اس کی سند "انتہائی ضعیف" ہے، اس میں ایک "متروک" راوی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5213 سے ماخوذ ہے۔