حدیث نمبر: 5176
حدثنا أبو عبد الله الأصبَهاني، حدثنا محمد بن عبد الله بن رُسْتَهْ، حدثنا سليمان بن داود، حدثنا محمد بن عمر، حدثني يحيى بن عبد العزيز بن سعيد بن سعد بن عُبادة بن دُلَيم بن حارثة بن النعمان بن أبي حَزِيمة (2) بن ثَعلبة بن طَرِيف بن الخَزْرج بن ساعِدةَ بن كعب بن الخَزْرج. قال محمد بن عمر: وكان سعد بن عُبادة يكنى أبا ثابت، وكان من الكَمَلَةِ، وهو أحدُ السبعين الذين بايَعوا رسولَ الله ﷺ من الأنصار ليلة العَقَبة في رواية جميعِهم، وأحدُ النُّقَباء الاثني عشر، وكان سيدًا جَوَادًا، ولم يَشْهَدْ بدرًا، ذُكِر أنه كان يَتأهّب للخروج إليهم، ويأتي دُورَ الأنصار يَحضُّهم على الخُروج، فنُهِش قبل أن يَخرُج فأقامَ، فقال رسولُ الله ﷺ: "لئِنْ كان سعدٌ لم يَشهَدْها، لقد كان عليها حَريصًا"، وقد شهد أُحدًا والخندقَ والمَشاهِدَ كلَّها (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5097 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
حافظ طلحہ بابر

یحیی بن عبدالعزیز بن سعید نے سیدنا سعد بن عبادہ کا نسب یوں بیان کیا ہے۔ یحییٰ بن عبد العزیز بن سعید بن سعد بن عبادہ بن دلیم بن حارثہ بن نعمان بن ابی حزیمہ بن ثعلبہ بن طریف بن خزرج بن ساعدہ بن کعب بن خزرج۔ محمد بن عمر کہتے ہیں کہ سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی کنیت ابو ثابت تھی اور ان کا شمار «كمله» (یعنی ان افراد میں جو لکھنا، تیراکی اور تیر اندازی جانتے تھے) میں ہوتا تھا، وہ ان ستر انصار میں سے ایک تھے جنہوں نے لیلۃ العقبہ میں رسول اللہ ﷺ کی بیعت کی تھی، یہ بات تمام راویوں کی روایات میں متفقہ طور پر موجود ہے، نیز وہ انصار کے بارہ نقیبوں میں سے ایک تھے، وہ ایک انتہائی سخی سردار تھے، (ایک قول کے مطابق) وہ غزوہ بدر میں (بالمشافہ) شریک نہیں ہوئے تھے، ذکر کیا گیا ہے کہ وہ جنگ کے لیے نکلنے کی بھرپور تیاری کر رہے تھے اور انصار کے گھروں میں جا کر انہیں جہاد پر ابھار رہے تھے، لیکن نکلنے سے پہلے ہی انہیں کسی زہریلے جانور نے ڈس لیا جس کی وجہ سے وہ رک گئے، تو رسول اللہ ﷺ نے ان کے متعلق فرمایا: ”اگرچہ سعد غزوہ بدر میں شریک نہیں ہو سکے لیکن وہ اس میں شرکت کے لیے بہت زیادہ حریص (خواہش مند) تھے“، البتہ وہ غزوہ احد، خندق اور باقی تمام غزوات میں شریک رہے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5176
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 5176] [ترقيم الشركة 5131] [ترقيم العلميه 5097]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) جاء في (ص) مُعجمًا بالخاء المعجمة، وفي (ز) صُحِّح فوق الحاء المهملة، وكلاهما مرويٌّ، كما جاء في "تاريخ بغداد" للخطيب في ترجمة قيس بن سعد بن عُبادة 1/ 529 وكما جاء في "الإملاء المختصر" لأبي ذرٍّ الخُشَني ص 19، لكنّ ضبْطَه بالحاء المهملة هو الأشهر، وهو الذي جَزَم به الدارقطني في "المؤتلف والمختلف" 2/ 911، وابن ماكولا في "الإكمال" 3/ 141، وابن الأثير في "أسد الغابة" في ترجمة سعد بن عبادة 2/ 206، وفي "اللُّباب في تهذيب الأنساب" في نسبة الساعدي 2/ 92، وهو الذي صَوَّبه أبو ذر الخُشني في "الإملاء"، وبعضهم يقول في نسبه: ابن حَزِيمة، دون لفظة "أبي" كما سماه عروة بن الزبير في أول الترجمة.
فنی نکتہ / علّت: (2) نسخہ (ص) میں یہ لفظ نقطے والی "خ" (خاء معجمہ) کے ساتھ آیا ہے، جبکہ نسخہ (ز) میں اسے بغیر نقطے والی "ح" (حاء مہملہ) کے ساتھ درست کیا گیا ہے، اور یہ دونوں ہی مروی ہیں۔
حوالہ / مصدر: جیسا کہ خطیب کی "تاریخ بغداد" [1/ 529] میں قیس بن سعد بن عبادہ کے حالات میں اور ابو ذر الخشنی کی "الاملاء المختصر" (ص 19) میں ہے۔
اہم نکتہ: لیکن "ح" (حاء مہملہ) کے ساتھ ضبط کرنا زیادہ مشہور ہے، اور اسی کا یقین (جزم) دارقطنی نے "المؤتلف والمختلف" [2/ 911] میں، ابن ماکولا نے "الاکمال" [3/ 141] میں، ابن اثیر نے "اسد الغابہ" (سعد بن عبادہ کے حالات میں) [2/ 206] اور "اللباب فی تہذیب الانساب" [2/ 92] میں کیا ہے، اور اسی کو ابو ذر الخشنی نے درست قرار دیا ہے۔
نوٹ / توضیح: بعض اہل علم ان کے نسب میں لفظ "ابی" کے بغیر صرف "ابن حزیمہ" کہتے ہیں، جیسا کہ عروہ بن زبیر نے ترجمے کے شروع میں ان کا نام لیا۔
(1) وهو في "طبقات ابن سعد" 3/ 567 عن محمد بن عمر الواقدي. وفي شهود سعد بن عبادة بدرًا خلافٌ كما تقدم.
حوالہ / مصدر: (1) یہ ابن سعد کی "الطبقات" [3/ 567] میں محمد بن عمر الواقدی سے مروی ہے۔
نوٹ / توضیح: اور سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے غزوہ بدر میں شریک ہونے میں اختلاف ہے جیسا کہ پہلے گزر چکا۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5176 سے ماخوذ ہے۔