المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
ذِكْرُ وَفَاةِ نَوْفَلِ بْنِ الْحَارِثِ باب: سیدنا نوفل بن حارث رضی اللہ عنہ کی وفات کا بیان
حدیث نمبر: 5149
حدثنا بذلك أبو عبد الله بن بُطّة بإسناده، وقال: فحدثنا ابن عُمر، عن شيوخه، قال: تُوفي نوفل بن الحارث بعد أن استُخلِف عمرُ بن الخطاب بسنةٍ وثلاثةِ أشهرٍ، فصلَّى عليه عمر، ثم مشى معه إلى البقيع، حتى دُفِنَ هنالك (1).
حافظ طلحہ بابر
محمد بن عمر اپنے مشائخ سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا نوفل بن الحارث رضی اللہ عنہ کی وفات سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے خلیفہ بننے کے ایک سال تین ماہ بعد ہوئی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کی نمازِ جنازہ پڑھائی اور پھر جنازے کے ساتھ پیدل جنت البقیع تک گئے یہاں تک کہ وہ وہیں دفن کیے گئے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) ومثله قولُ ابن سعد في "طبقاته" 4/ 42، وقول مصعب بن عبد الله الزبيري في "نسب قريش" ص 87، لكن لم يذكر مصعبٌ سنة وفاة نوفل.
متابعات و شواہد: (1) اسی طرح کا قول ابن سعد کا "الطبقات" [4/ 42] میں ہے، اور مصعب بن عبداللہ الزبیری کا "نسب قریش" (صفحہ 87) میں ہے۔
نوٹ / توضیح: لیکن مصعب نے نوفل کی وفات کا سال ذکر نہیں کیا۔
متابعات و شواہد: (1) اسی طرح کا قول ابن سعد کا "الطبقات" [4/ 42] میں ہے، اور مصعب بن عبداللہ الزبیری کا "نسب قریش" (صفحہ 87) میں ہے۔
نوٹ / توضیح: لیکن مصعب نے نوفل کی وفات کا سال ذکر نہیں کیا۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5149 سے ماخوذ ہے۔