المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
إِخْبَارُ النَّبِيِّ بِشَهَادَةِ قَيْسِ بْنِ ثَابِتٍ باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سیدنا قیس بن ثابت رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر دینا
حدیث نمبر: 5104
أخبرني الإمام أبو الوليد الفقيه وأبو بكر بن قُريش الوَرّاق قالا: حدثنا الحَسَن بن سفيان حدثنا وهْب بن بَقيّة، أخبرنا خالد عن حُميد، عن أنس، قال: خَطَبَ ثابتُ بن قيس عند مَقدَمِ النبيّ ﷺ المدينةَ، فقال: نمنُعك مما نَمنعُ منه أَنفُسَنا وأولادَنا، فما لنا؟ قال: "الجنةُ" قال: رَضِينا (2). صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5033 - على شرط البخاري ومسلمحافظ طلحہ بابر
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ کی مدینہ تشریف آوری کے موقع پر خطبہ دیا اور عرض کیا: ”ہم آپ کی اسی طرح حفاظت کریں گے جس طرح ہم اپنی جانوں اور اپنی اولاد کی حفاظت کرتے ہیں، تو (اس کے بدلے) ہمیں کیا ملے گا؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جنت۔“ انہوں نے عرض کیا: ”ہم راضی ہیں۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده صحيح. حميد: هو ابن أبي حميد الطويل، وخالد هو ابن عبد الله الواسطي الطحّان.
درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔ "حمید" سے مراد ابن ابی حمید الطویل ہیں، اور "خالد" سے مراد ابن عبد اللہ الواسطی الطحان ہیں۔
وأخرجه النسائي (8171) من طريق خالد بن الحارث، عن حميد الطويل، به.
حوالہ / مصدر: اس کی تخریج نسائی (8171) نے خالد بن حارث عن حمید الطویل کے طریق سے کی ہے۔
وقد تقدَّم مثله برقم (4299) من حديث جابر بن عبد الله قال: قال رسول الله ﷺ للنقباء من الأنصار: "تؤونني وتمنعوني؟ " قالوا: نعم، فما لنا؟ قال: "الجنة". وهو حديث صحيح أيضًا.
متابعات و شواہد: اس جیسی روایت نمبر (4299) پر جابر بن عبد اللہ ؓ سے گزر چکی ہے، جس میں رسول اللہ ﷺ نے انصار کے نقیبوں سے فرمایا: "کیا تم مجھے پناہ دو گے اور میری حفاظت کرو گے؟" انہوں نے کہا: جی ہاں، تو ہمارے لیے کیا (اجر) ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: "جنت"۔ یہ حدیث بھی "صحیح" ہے۔
درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔ "حمید" سے مراد ابن ابی حمید الطویل ہیں، اور "خالد" سے مراد ابن عبد اللہ الواسطی الطحان ہیں۔
وأخرجه النسائي (8171) من طريق خالد بن الحارث، عن حميد الطويل، به.
حوالہ / مصدر: اس کی تخریج نسائی (8171) نے خالد بن حارث عن حمید الطویل کے طریق سے کی ہے۔
وقد تقدَّم مثله برقم (4299) من حديث جابر بن عبد الله قال: قال رسول الله ﷺ للنقباء من الأنصار: "تؤونني وتمنعوني؟ " قالوا: نعم، فما لنا؟ قال: "الجنة". وهو حديث صحيح أيضًا.
متابعات و شواہد: اس جیسی روایت نمبر (4299) پر جابر بن عبد اللہ ؓ سے گزر چکی ہے، جس میں رسول اللہ ﷺ نے انصار کے نقیبوں سے فرمایا: "کیا تم مجھے پناہ دو گے اور میری حفاظت کرو گے؟" انہوں نے کہا: جی ہاں، تو ہمارے لیے کیا (اجر) ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: "جنت"۔ یہ حدیث بھی "صحیح" ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5104 سے ماخوذ ہے۔