حدیث نمبر: 5082
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بُكَير، عن ابن إسحاق، قال: ومعنُ بن عَدِي بن الجَدّ بن العَجْلان حليفٌ من بَلِيٍّ، شَهِدَ العقبةَ، وشهدَ بدرًا وأُحدًا والخندقَ ومَشاهدَ رسولِ الله ﷺ، وقُتل يومَ اليمامةِ شهيدًا في خلافة أبي بكر الصِّديق (1).
حافظ طلحہ بابر

ابن اسحاق بیان کرتے ہیں کہ سیدنا معن بن عدی رضی اللہ عنہ قبیلہ بلی کے حلیف تھے، وہ بیعت عقبہ میں شریک ہوئے اور انہوں نے غزوہ بدر، احد، خندق اور رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ تمام غزوات میں شرکت کی، وہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں جنگِ یمامہ میں شہید ہوئے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5082
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 5082] [ترقيم الشركة 5044]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) وهو في "السيرة النبوية" لابن هشام 1/ 456.
حوالہ / مصدر: یہ روایت ابن ہشام کی "سیرت النبویہ" (1/ 456) میں موجود ہے۔
وقد أثبت عروةُ بن الزبير شهود معن بن عدي بدرًا في "صحيح البخاري" (4021) حيث سأله الزهري عن قول عمر بن الخطاب: لما توفي النبي ﷺ قلت لأبي بكر: انطلق بنا على إخواننا الأنصار، فلقينا منهم من ما رجلان صالحان شهدا بدرًا. فقال عروة: هما عُويم بن ساعِدة ومعن بن عدي.
تفصیلِ روایت: عروہ بن زبیر نے "صحیح بخاری" (4021) میں معن بن عدی کے غزوہ بدر میں شریک ہونے کی تصدیق کی ہے۔ جب زہری نے ان سے حضرت عمرؓ کے اس قول کے بارے میں پوچھا کہ "جب نبی ﷺ فوت ہوئے تو میں نے ابوبکر سے کہا کہ ہمیں ہمارے انصاری بھائیوں کے پاس لے چلیں، تو ہمیں ان میں سے دو نیک آدمی ملے جو بدر میں شریک تھے"۔ عروہ نے فرمایا: وہ دونوں "عویم بن ساعدہ اور معن بن عدی" تھے۔
وأثبت له الزهري شهوده العقبة وبدرًا كما في "الآحاد والمثاني" لابن أبي عاصم (1824)، و "معرفة الصحابة" لأبي نعيم (6148).
تاریخی نکتہ: امام زہری نے بھی ان (معن بن عدی) کے بیعتِ عقبہ اور غزوہ بدر میں شریک ہونے کی تصدیق کی ہے، جیسا کہ ابن ابی عاصم کی "الآحاد والمثانی" (1824) اور ابو نعیم کی "معرفۃ الصحابہ" (6148) میں ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5082 سے ماخوذ ہے۔