المستدرك على الصحيحين
كتاب الطهارة— طہارت کا بیان
الْبَحْرُ هُوَ الطَّهُورُ مَاؤُهُ الْحِلُّ مَيْتَتُهُ باب: سمندر کا پانی پاک ہے اور اس کے مردہ جانور حلال ہیں۔
حدیث نمبر: 505
فحدَّثَناه أبو سعيد أحمد بن محمد النَّسَوي، حدثنا أحمد بن محمد بن سعيد، حدثنا أحمد بن الحسين بن عبد الملك، حدثنا معاذ بن موسى، حدثنا محمد بن الحسين بن علي، حدثني أَبي، عن أبيه، عن جدِّه، عن علي بن أبي طالب قال: سُئِلَ رسولُ الله ﷺ عن ماء البحر، فقال: "هو الطَّهورُ ماؤُه، الحِلُّ مَيْتَتُه" (3). وأما حديث ابن عباس، فقد ذكرناه (1). وأما حديث جابر:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے سمندر کے پانی کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کا پانی پاک کرنے والا اور اس کا مردار حلال ہے۔“ جہاں تک ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث کا تعلق ہے تو ہم اسے پہلے ذکر کر چکے ہیں۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) إسناده ضعيف، فيه من لا يعرف وكذا قال الحافظ ابن حجر في "التلخيص الحبير" 1/ 12.
درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے کیونکہ اس میں مجہول (نامعلوم) راوی ہیں؛ یہی بات حافظ ابن حجر نے "التلخیص الحبیر" 1/ 12 میں کہی ہے۔
وأخرجه الدارقطني (73) عن أحمد بن محمد بن سعيد، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام دارقطنی (73) نے احمد بن محمد بن سعید کی سند سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
(1) سلف برقم (495).
اہم نکتہ: یہ روایت پہلے نمبر (495) پر گزر چکی ہے۔
درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے کیونکہ اس میں مجہول (نامعلوم) راوی ہیں؛ یہی بات حافظ ابن حجر نے "التلخیص الحبیر" 1/ 12 میں کہی ہے۔
وأخرجه الدارقطني (73) عن أحمد بن محمد بن سعيد، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام دارقطنی (73) نے احمد بن محمد بن سعید کی سند سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
(1) سلف برقم (495).
اہم نکتہ: یہ روایت پہلے نمبر (495) پر گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 505 سے ماخوذ ہے۔