المستدرك على الصحيحين
كتاب الطهارة— طہارت کا بیان
الْبَحْرُ هُوَ الطَّهُورُ مَاؤُهُ الْحِلُّ مَيْتَتُهُ باب: سمندر کا پانی پاک ہے اور اس کے مردہ جانور حلال ہیں۔
حدیث نمبر: 503
حدثنا أبو علي الحسين بن علي الحافظ، حدثنا أبو يعقوب إسحاق بن إبراهيم بن يونس بمصر، حدثنا إسحاق بن إبراهيم بن سَهْم، حدثنا عبد الله بن محمد بن رَبِيعة، حدثنا إبراهيم بن سعد، عن الزُّهْري، عن سعيد بن المسيّب، عن أبي هريرة قال: سُئِلَ النبيُّ ﷺ عن ماء البحر: أنتوضَّأُ منه؟ فقال: "الطَّهُورُ ماؤُه، والحِلُّ مَيْتَتُه" (3). ومنهم أبو سلمة بن عبد الرحمن:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ سے سمندر کے پانی کے بارے میں سوال کیا گیا: ”کیا ہم اس سے وضو کر لیں؟“ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کا پانی پاک کرنے والا ہے اور اس کا مردار حلال ہے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) إسناده واهٍ من أجل عبد الله بن محمد بن ربيعة: وهو القُدَامي المصّيصي. والحديث صحيح كما سبق.
درجۂ حدیث: یہ سند عبداللہ بن محمد بن ربیعہ (القدامی المصیصی) کی وجہ سے بہت کمزور (واہی) ہے، اگرچہ حدیث بذاتِ خود صحیح ہے۔
وأخرجه الدارقطني في "سننه" (82) عن محمد بن إسماعيل الفارسي، عن إسحاق بن سهم، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام دارقطنی نے اپنی "سنن" (82) میں محمد بن اسماعیل فارسی عن اسحاق بن سہم کی سند سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: یہ سند عبداللہ بن محمد بن ربیعہ (القدامی المصیصی) کی وجہ سے بہت کمزور (واہی) ہے، اگرچہ حدیث بذاتِ خود صحیح ہے۔
وأخرجه الدارقطني في "سننه" (82) عن محمد بن إسماعيل الفارسي، عن إسحاق بن سهم، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام دارقطنی نے اپنی "سنن" (82) میں محمد بن اسماعیل فارسی عن اسحاق بن سہم کی سند سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 503 سے ماخوذ ہے۔