المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
كَانَ النَّبِيُّ إِذَا لَمْ يَغْزُ لَمْ يُعْطِ سِلَاحَهُ إِلَّا عَلِيًّا أَوْ زَيْدًا باب: سیدنا زید الحب بن حارثہ بن شراحیل بن عبد العزیٰ رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان — جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود غزوہ پر نہ جاتے تو اپنا اسلحہ صرف سیدنا علی رضی اللہ عنہ یا سیدنا زید رضی اللہ عنہ کو عطا فرماتے
حدیث نمبر: 5028
حَدَّثَنَا أحمد بن سهل ببُخَارى، حَدَّثَنَا سهل بن المُتوكِّل، حَدَّثَنَا حامد بن يحيى البَلْخيّ، حَدَّثَنَا سفيان بن عُيينة، عن إسماعيل بن أبي خالد، عن الشَّعبي، عن مسروق، عن عائشة قالت: ما بَعَثَ النبيُّ ﷺ زَيدًا في سريةٍ إِلَّا أَمَّره عليهم (1). صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو جس لشکر میں بھی روانہ فرمایا انہیں ان سب پر امیر ہی مقرر فرمایا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح. الشَّعْبي: هو عامر بن شَراحيل، ومَسروق: هو ابن الأجدع. وانظر ما سلف برقم (5020 م).
درجۂ حدیث: (1) اس کی سند "صحیح" ہے۔ شعبی سے مراد عامر بن شراحیل، اور مسروق سے مراد ابن الاجدع ہیں۔ اور جو نمبر (5020 م) میں گزرا اسے دیکھیں۔
درجۂ حدیث: (1) اس کی سند "صحیح" ہے۔ شعبی سے مراد عامر بن شراحیل، اور مسروق سے مراد ابن الاجدع ہیں۔ اور جو نمبر (5020 م) میں گزرا اسے دیکھیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5028 سے ماخوذ ہے۔