المستدرك على الصحيحين
كتاب الطهارة— طہارت کا بیان
الْبَحْرُ هُوَ الطَّهُورُ مَاؤُهُ الْحِلُّ مَيْتَتُهُ باب: سمندر کا پانی پاک ہے اور اس کے مردہ جانور حلال ہیں۔
حدیث نمبر: 496
ما حدَّثَناه أبو العباس، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم وبَحْر بن نصر قالا: حدثنا ابن وهب. وأخبرنا الحسن بن يعقوب، حدثنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا عبد الوهاب بن عطاء. وأخبرني أبو بكر بن نصر، حدثنا أحمد بن محمد بن عيسى، حدثنا القَعنَبي، كلهم عن مالك، عن صفوان بن سُلَيم، عن سعيد بن سَلَمة مولى لآل الأزرق، أنَّ المغيرة ابن أبي بُرْدة - رجلٌ من بني عبد الدار- أخبره أنه سمع أبا هريرة يقول: سأل رجلٌ رسولَ الله ﷺ فقال: يا رسول الله، إنا نَركَبُ البحرَ ونَحمِلُ معنا القليلَ من الماء، فإن توضَّأْنا به عَطِشْنا، أفنتوضَّأُ بماءِ البحر؟ فقال رسول الله ﷺ: "هو الطَّهُورُ ماؤُه، الحِلُّ مَيْتتُه" (1). وقد تابع مالكَ بنَ أنس على روايته عن صفوان بن سُلَيم عبدُ الرحمن بنُ إسحاق وإسحاقُ بنُ إبراهيم المُزَني. أما حديث عبد الرحمن بن إسحاق:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا: یا رسول اللہ! ہم سمندری سفر کرتے ہیں اور اپنے ساتھ تھوڑا پانی رکھتے ہیں، اگر ہم اس سے وضو کر لیں تو پیاسے رہ جائیں گے، کیا ہم سمندر کے پانی سے وضو کر سکتے ہیں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس کا پانی پاک ہے اور اس کا مردار حلال ہے۔“
امام مالک نے اس کی روایت کی ہے اور دیگر راویوں نے بھی اس میں ان کی متابعت کی ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح. القعنبي: هو عبد الله بن مَسلَمة بن قَعنَب.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: قعنبی سے مراد عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب ہیں۔
وأخرجه أحمد 12/ (7233) و 14/ (8735) و 15/ (9100)، وأبو داود (83)، وابن ماجه (386) و (3246)، والترمذي (69)، والنسائي (58) و (4843)، وابن حبان (1243) و (5258) من طرق عن مالك بهذا الإسناد. وقال الترمذي: حديث حسن صحيح.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے 12/ (7233)، 14/ (8735) اور 15/ (9100) میں، ابوداؤد نے (83)، ابن ماجہ نے (386) اور (3246)، امام ترمذی نے (69)، امام نسائی نے (58) اور (4843) میں، اور ابن حبان نے (1243) اور (5258) میں امام مالک کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: امام ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث "حسن صحیح" ہے۔
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: قعنبی سے مراد عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب ہیں۔
وأخرجه أحمد 12/ (7233) و 14/ (8735) و 15/ (9100)، وأبو داود (83)، وابن ماجه (386) و (3246)، والترمذي (69)، والنسائي (58) و (4843)، وابن حبان (1243) و (5258) من طرق عن مالك بهذا الإسناد. وقال الترمذي: حديث حسن صحيح.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے 12/ (7233)، 14/ (8735) اور 15/ (9100) میں، ابوداؤد نے (83)، ابن ماجہ نے (386) اور (3246)، امام ترمذی نے (69)، امام نسائی نے (58) اور (4843) میں، اور ابن حبان نے (1243) اور (5258) میں امام مالک کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: امام ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث "حسن صحیح" ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 496 سے ماخوذ ہے۔