حدیث نمبر: 4942
حدثنا أبو عبد الله محمد بن أحمد، حدثنا الحسن بن الجَهْم، حدثنا الحُسين بن الفَرَج، حدثنا محمد بن عمر، عن شُيوخه، قالوا: لما أُصيبَ حمزةُ جَعَلَ رسولُ الله ﷺ يقولُ: "لن أُصابَ بمثلِك أبدًا"، ثم قال لفاطمة ولِعمَّتِه صفيّة: "أبشرا، أتاني جِبريلُ ﵇، فأخبَرَني أنَّ حمزةَ مَكتوبٌ في أهلِ السماوات: حمزةُ بنُ عبد المُطَّلب أَسَدُ اللهِ وأَسَدُ رسولِه" (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4881 - حذفه الذهبي من التلخيص
حافظ طلحہ بابر

محمد بن عمر اپنے شیوخ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: جب سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی شہادت کا واقعہ پیش آیا تو رسول اللہ ﷺ رنجیدہ ہو کر فرمانے لگے: ”مجھے آپ جیسا صدمہ کبھی نہیں پہنچے گا“، پھر آپ ﷺ نے سیدہ فاطمہ اور اپنی پھوپھی سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہما سے فرمایا: ”تم دونوں کو خوشخبری ہو، میرے پاس جبرائیل علیہ السلام آئے اور انہوں نے مجھے خبر دی ہے کہ آسمان والوں کے ہاں یہ بات لکھی جا چکی ہے کہ حمزہ بن عبدالمطلب اللہ کے شیر اور اس کے رسول کے شیر ہیں۔“

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 4942
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًّا
تخریج حدیث «إسناده ضعيف جدًّا،من أجل محمد بن عمر - وهو ابن واقد الواقدي - ففيه مقالٌ معروف، ولا يُعرف عن أيّ شيوخه حمل هذا الخبر، على أنه وإن عُرف عمن حمله يبقى فيه علَّة الإرسال أو الإعضال، ولم يُرو هذا الخبر من وجه آخر يُعتدُّ به.» [ترقيم الرساله 4942] [ترقيم الشركة 4909] [ترقيم العلميه 4881]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده ضعيف جدًّا من أجل محمد بن عمر - وهو ابن واقد الواقدي - ففيه مقالٌ معروف، ولا يُعرف عن أيّ شيوخه حمل هذا الخبر، على أنه وإن عُرف عمن حمله يبقى فيه علَّة الإرسال أو الإعضال، ولم يُرو هذا الخبر من وجه آخر يُعتدُّ به.
درجۂ حدیث: (2) اس کی سند محمد بن عمر - جو کہ ابن واقد الواقدی ہے - کی وجہ سے "ضعیف جداً" (سخت ضعیف) ہے، اس میں معروف کلام ہے، اور یہ بھی معلوم نہیں کہ اس نے اپنے کن شیوخ سے یہ خبر لی ہے، اور اگر وہ راوی معلوم بھی ہو جائے تب بھی اس میں "ارسال" یا "اعضال" (انقطاع) کی علت باقی رہے گی، اور یہ خبر کسی اور قابلِ اعتماد طریق سے مروی نہیں ہے۔
وهو في "مغازي الواقدي" 1/ 290. وذكره ابن هشام في "السيرة النبوية" 2/ 96 بغير إسنادٍ.
حوالہ / مصدر: یہ روایت "مغازی الواقدی": 1/ 290 میں موجود ہے، اور اسے ابن ہشام نے "السیرۃ النبویہ": 2/ 96 میں بغیر سند کے ذکر کیا ہے۔
وسيأتي عند المصنف برقم (4959) من طريق يحيى بن عبد الرحمن بن أبي لبيبة عن جده.
تفصیلِ روایت: یہ روایت مصنف کے ہاں عنقریب نمبر (4959) کے تحت یحییٰ بن عبدالرحمن بن ابی لبیبہ کے طریق سے، ان کے دادا سے آئے گی۔
وإسناده ضعيف جدًّا.
درجۂ حدیث: اور اس کی سند (بھی) "ضعیف جداً" (سخت ضعیف) ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4942 سے ماخوذ ہے۔