المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
ذِكْرُ مَنَاقِبِ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونِ بْنِ حَبِيبِ بْنِ وَهْبِ بْنِ حُذَافَةَ باب: سیدنا عثمان بن مظعون بن حبیب بن وہب بن حذافہ رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان — جنت البقیع میں سب سے پہلے دفن ہونے والے سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ تھے
حدیث نمبر: 4929
حدثنا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حدثنا الحسن بن علي بن عفّان، حدثنا معاوية بن هشام، حدثنا سفيان، عن عاصم بن عُبيد الله، عن القاسم بن محمد، عن عائشة قالت: قَبّلَ رسولُ الله ﷺ عثمانَ بن مَطْعُون بعدما ماتَ (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4868 - سنده صالححافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عثمان بن مظعون کی وفات کے بعد ان کا بوسہ لیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) حديث قابل للتحسين، وهذا إسناد ضعيف لضعف عاصم بن عُبيد الله، لكن روي ما يشهد له كما تقدَّم بيانه برقم (1350) حيث تقدَّم الخبر هناك من طريقين عن سفيان: وهو الثوري.
درجۂ حدیث: یہ حدیث تحسین (حسن ہونے) کے قابل ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اگرچہ یہ موجودہ سند عاصم بن عبید اللہ کے ضعف کی وجہ سے ضعیف ہے، لیکن اس کے شواہد مروی ہیں جیسا کہ حدیث نمبر (1350) میں گزر چکا ہے۔
متابعات و شواہد: وہاں یہ روایت سفیان ثوری (سفیان بن سعید بن مسروق الثوری) سے دو طرق کے ساتھ بیان ہوئی ہے جو اس کی تقویت کا باعث ہے۔
درجۂ حدیث: یہ حدیث تحسین (حسن ہونے) کے قابل ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اگرچہ یہ موجودہ سند عاصم بن عبید اللہ کے ضعف کی وجہ سے ضعیف ہے، لیکن اس کے شواہد مروی ہیں جیسا کہ حدیث نمبر (1350) میں گزر چکا ہے۔
متابعات و شواہد: وہاں یہ روایت سفیان ثوری (سفیان بن سعید بن مسروق الثوری) سے دو طرق کے ساتھ بیان ہوئی ہے جو اس کی تقویت کا باعث ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4929 سے ماخوذ ہے۔