حدیث نمبر: 4924
أخبرني إسماعيل بن محمد بن الفضل الشَّعْراني، حدثنا جدِّي، حدثنا إبراهيم بن المنذر، حدثنا محمد بن فُليح، عن موسى بن عُقبة، عن ابن شِهَاب، قال: اختلفَ عُتبةُ وعُبيدةُ بينهما ضربتَين، كلاهما أثبتَ صاحبَه، وكَرَّ حمزةُ وعليٌّ على عُتبة فقتلاهُ واحتَمَلا صاحبَهما عُبيدة، فجاء به إلى النبي ﷺ، وقد قُطِعت رجلُه ومُخُّها يسيلُ، فلما أتوا بعُبيدة إلى رسول الله ﷺ قال: ألستُ شهيدًا يا رسولَ الله؟ قال: "بلي"، فقال عُبيدة: لو كان أبو طالب حيًّا لعَلِمَ أنَّا أحقُّ بما قال منه حيثُ يقول: ونُسلِمُه حتى نُصرَّعَ حَولَهُ … ونُذهَلَ عن أبنائِنا والحَلائلِ (1) ذكر مناقب عمير بن أبي وقاص، أخو سعدٍ قُتِل يومَ بدرٍ ﵁.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4863 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر

ابن شہاب سے روایت ہے کہ عتبہ اور عبیدہ کے درمیان دو ضربوں کا تبادلہ ہوا، دونوں نے اپنے حریف کو زخمی کر دیا، پھر حمزہ اور علی نے عتبہ پر حملہ کر کے اسے قتل کر دیا اور اپنے ساتھی عبیدہ کو اٹھا لائے، جب انہیں نبی کریم ﷺ کے پاس لایا گیا تو ان کی ٹانگ کٹ چکی تھی اور اس کا گودا بہ رہا تھا، جب وہ عبیدہ کو رسول اللہ ﷺ کے پاس لائے تو انہوں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! کیا میں شہید نہیں ہوں؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیوں نہیں (یقیناً ہو)“، تو عبیدہ نے کہا: ”اگر آج ابوطالب زندہ ہوتے تو انہیں معلوم ہو جاتا کہ ان کے کہے ہوئے اس قول کے ہم زیادہ حقدار ہیں: ”اور ہم انہیں (دشمن کے) حوالے نہیں کریں گے یہاں تک کہ ان کے گرد پچھاڑ دیے جائیں، اور ہم اپنے بیٹوں اور بیویوں سے غافل ہو جائیں۔“

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 4924
درجۂ حدیث محدثین: رجاله ثقات
تخریج حدیث «رجاله ثقات، لكن ما وقع هنا من ذكر عُتبة أنه كان خصمًا لعُبيدة وهمٌ الظاهر أنه من قِبلَ المصنف نفسِه، وذلك أن البيهقي روى هذا الخبر في "دلائل النبوة" 3/ 101 - 114 عن المصنِّف بإسناده الذي هنا نفسِه وبإسناد آخر عن موسى بن عقبة من رواية ابن أخيه إسماعيل ...» [ترقيم الرساله 4924] [ترقيم الشركة 4891] [ترقيم العلميه 4863]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) رجاله ثقات، لكن ما وقع هنا من ذكر عُتبة أنه كان خصمًا لعُبيدة وهمٌ الظاهر أنه من قِبلَ المصنف نفسِه، وذلك أن البيهقي روى هذا الخبر في "دلائل النبوة" 3/ 101 - 114 عن المصنِّف بإسناده الذي هنا نفسِه وبإسناد آخر عن موسى بن عقبة من رواية ابن أخيه إسماعيل بن إبراهيم بن عُقبة عنه، فذكر أنَّ خصم عُبيدة بن الحارث كان شيبة بن ربيعة لا عُتبة، مع أنَّ البيهقي ساق الخبر بلفظ إسماعيل بن إبراهيم بن عقبة، غير أنه كان إذا وجد فرقًا بين الروايتين خلال سياقه الخبر نبه عليه بقوله: قال ابن فُليح في روايته كذا، فلما لم ينبه هنا دلَّ على اتحاد الروايتين في ذكر الخصمين المذكورين، أبي عُبيدة وشيبة، والله تعالى أعلم.
درجۂ حدیث: اس کے رجال ثقہ ہیں۔
فنی نکتہ / علّت: لیکن یہاں جو ذکر ہوا ہے کہ "عتبہ" عبیدہ کا مدِ مقابل تھا، یہ ایک "وہم" ہے اور ظاہر ہے کہ یہ خود مصنف (حاکم) کی جانب سے ہوا ہے۔ دلیل یہ ہے کہ بیہقی نے "دلائل النبوۃ" میں مصنف ہی کی سند سے اور موسیٰ بن عقبہ کی دوسری سند سے روایت نقل کی ہے، اور وہاں عبیدہ کے مقابل "شیبہ بن ربیعہ" کا ذکر ہے نہ کہ عتبہ کا۔ اور چونکہ بیہقی نے دونوں روایتوں میں فرق پر کوئی تنبیہ نہیں کی (جیسا کہ وہ عموماً کرتے ہیں)، تو اس سے دونوں روایتوں کا متحد ہونا ثابت ہوتا ہے۔ واللہ اعلم۔
وكَرَّ، أي: عَطَفَ ورجع.
نوٹ / توضیح: "کَرَّ" کا معنی ہے: مڑا اور پلٹا (حملے کے لیے)۔
وقوله: "ونُسلِمُه" بالرفع معطوف على ما في بيتٍ سابق، أي: لا نُسلِمُه، من: أَسلَمه، بمعنى: سلَّمه لفلان، أو من أَسْلَمَه، بمعنى خَذَلَه. ونُصرَّع ونُذهَل بالبناء للمفعول، قاله عبد القادر البغدادي في "خزانة الأدب" 2/ 64.
نوٹ / توضیح: لفظ "نُسلِمُہ" (رفع کے ساتھ) پچھلے شعر پر معطوف ہے، یعنی "ہم اسے حوالے نہیں کریں گے" (یا رسوا نہیں کریں گے)۔ اور "نُصرَّع" اور "نُذہَل" مجہول کے صیغے ہیں۔ (خزانۃ الادب: 64/2)۔
والحلائل: جمع حَلِيلة وهي الزوجة.
نوٹ / توضیح: "حلائل" جمع ہے "حلیلہ" کی، جس کا معنی بیوی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4924 سے ماخوذ ہے۔