المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
أَوْلَادُ رَسُولِ اللَّهِ مِنْ بَطْنِ خَدِيجَةَ باب: ان میں سے سیدہ خدیجہ بنت خویلد بن اسد بن عبدالعزیٰ رضی اللہ عنہا ہیں — سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بطن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اولاد
حدیث نمبر: 4899
حدثني أبو بكر بن بالَوَيهِ، حدثنا محمد بن يونس القُرشي، حدثنا أبو زيد سعيد بن أَوس، حدثنا شُعْبة، عن الحَكَم عن مِقْسَم، عن ابن عبّاس، قال: وَلَدت خَديجةُ لِرسولِ الله ﷺ غُلامَين وأربعَ نِسوةٍ: القاسمَ وعبدَ الله، وفاطمةَ وزينبَ ورقيّةَ وأمَّ كُلْثوم (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بطن سے رسول اللہ ﷺ کے دو بیٹے اور چار بیٹیاں پیدا ہوئیں جن کے نام یہ ہیں: قاسم، عبداللہ، فاطمہ، زینب، رقیہ اور امِ کلثوم (رضی اللہ عنہم)۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده ضعيف لضعف محمد بن يونس القرشي - وهو الكديمي - وقد تابعه أبو شيبة إبراهيم بن عثمان الكوفي فيما تقدَّم عند المصنف برقم (4813)، لكن أبا شيبة هذا متروك الحديث، فلا اعتداد بمتابعته. غير أنَّ هذا الخبر. وإن كان هذا حال أسانيده عن ابن عبّاس - مشهور معروف، كما تقدَّم بيانه عند الطريق المشار إليها.
درجۂ سند: یہ سند محمد بن یونس القرشی (الکدیمی) کے ضعف کی وجہ سے "ضعیف" ہے۔ ابوشیبہ ابراہیم بن عثمان الکوفی نے نمبر (4813) پر ان کی متابعت کی ہے، لیکن وہ "متروک الحدیث" ہے، لہٰذا اس کی متابعت کا اعتبار نہیں۔ البتہ یہ خبر (اگرچہ ابن عباس سے اس کی اسناد کا یہ حال ہے) "مشہور اور معروف" ہے، جیسا کہ وہاں بیان ہو چکا۔
درجۂ سند: یہ سند محمد بن یونس القرشی (الکدیمی) کے ضعف کی وجہ سے "ضعیف" ہے۔ ابوشیبہ ابراہیم بن عثمان الکوفی نے نمبر (4813) پر ان کی متابعت کی ہے، لیکن وہ "متروک الحدیث" ہے، لہٰذا اس کی متابعت کا اعتبار نہیں۔ البتہ یہ خبر (اگرچہ ابن عباس سے اس کی اسناد کا یہ حال ہے) "مشہور اور معروف" ہے، جیسا کہ وہاں بیان ہو چکا۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4899 سے ماخوذ ہے۔