حدیث نمبر: 4872
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا العباس بن محمد الدُّوري، حدثنا الأسود بن عامر شاذانُ، حدثنا زهير بن معاوية، حدثنا أبو رَوْق الهَمْداني، حدثنا أبو الغريف، قال: كنا في مُقدّمة الحسن بن علي اثني عشر ألفًا تقطُر أسيافُنا من الحدّة على قتال أهل الشام، وعلينا أبو العمرطة، فلما أتانا صُلحُ الحسن بن علي ومعاوية كأنما كُسِرت ظُهورنا من الحَرَد والغيظ، فلما قدم الحسن بن علي الكوفة قام إليه رجلٌ منا يُكنى أبا عامر سفيان بن لَيْل فقال: السلام عليك يا مُذلَّ المؤمنين، فقال الحسن: لا تقل ذاك يا أبا عامر، لم أُذِلَّ المؤمنين، ولكن كرهت أن أقتُلَهم في طَلَبِ المُلك (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4812 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر

ابوالغریف سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے ہراول دستے میں بارہ ہزار لوگ تھے جن کی تلواروں سے اہل شام کے خلاف قتال کے لیے تیزی و تندی ٹپک رہی تھی، اور ہمارے امیر ابوالعمرطہ تھے، پس جب ہمارے پاس سیدنا حسن بن علی اور معاویہ (رضی اللہ عنہما) کی صلح کی خبر آئی تو شدتِ غصہ اور رنج سے ایسا محسوس ہوا جیسے ہماری کمر ٹوٹ گئی ہو، پھر جب سیدنا حسن بن علی کوفہ تشریف لائے تو ہم میں سے ایک شخص جس کی کنیت ابوعامر سفیان بن لیل تھی، ان کے پاس کھڑا ہوا اور کہنے لگا: اے مومنوں کو ذلیل کرنے والے! آپ پر سلام ہو، تو سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اے ابوعامر! ایسا نہ کہو، میں نے مومنوں کو ذلیل نہیں کیا، بلکہ میں نے یہ ناپسند کیا کہ اقتدار کے حصول کے لیے انہیں (مسلمانوں کو) قتل کرواؤں۔“

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 4872
درجۂ حدیث محدثین: إسناده قوي
تخریج حدیث «إسناده قوي، من أجل أبي رَوْق الهَمْداني: واسمه عطية بن الحارث. أبو الغَرِيف: هو عُبيد الله بن خليفة الهَمْداني، وهذا وثّقه العجلي ويعقوب بن سفيان والدارقطني وذكره ابن حبان في "الثقات".» [ترقيم الرساله 4872] [ترقيم الشركة 4840] [ترقيم العلميه 4812]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) إسناده قوي من أجل أبي رَوْق الهَمْداني: واسمه عطية بن الحارث. أبو الغَرِيف: هو عُبيد الله بن خليفة الهَمْداني، وهذا وثّقه العجلي ويعقوب بن سفيان والدارقطني وذكره ابن حبان في "الثقات".
درجۂ سند: یہ سند ابوروق الہمدانی (عطیہ بن الحارث) کی وجہ سے "قوی" ہے۔ ابو الغریف سے مراد "عبیداللہ بن خلیفہ الہمدانی" ہیں؛ انہیں عجلی، یعقوب بن سفیان اور دارقطنی نے ثقہ کہا ہے اور ابن حبان نے "الثقات" میں ذکر کیا ہے۔
وأخرجه الخطيب البغدادي في "تاريخ بغداد" 12/ 6، ومن طريقه ابن عساكر في "تاريخ دمشق" 13/ 279، وابن الجوزي في "المنتظم" 5/ 184، والمزِّي في "تهذيب الكمال" في ترجمة الحسن بن علي 6/ 250 من طريق محمد بن أحمد بن إبراهيم الحكيمي، عن العباس بن محمد، بهذا الإسناد.
تخریج / حوالہ جات: اسے خطیب بغدادی نے "تاریخ بغداد" (12/ 6) میں، اور ان کے طریق سے ابن عساکر نے "تاریخ دمشق" (13/ 279)، ابن الجوزی نے "المنتظم" (5/ 184) اور مزی نے "تہذیب الکمال" (حسن بن علی کے ترجمے میں 6/ 250) میں محمد بن احمد بن ابراہیم الحکیمی کے واسطے سے، انہوں نے عباس بن محمد سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابن أبي شيبة 15/ 93، وأخرجه الخطيب 12/ 6، وابن عساكر 13/ 279 من طريق العباس بن عبد العظيم، كلاهما (ابن أبي شيبة والعباس) عن أسود بن عامر، به.
تخریج / حوالہ: اسے ابن ابی شیبہ (15/ 93) نے اور خطیب (12/ 6) اور ابن عساکر (13/ 279) نے عباس بن عبدالعظیم کے طریق سے روایت کیا۔ یہ دونوں (ابن ابی شیبہ اور عباس) اسے اسود بن عامر سے اسی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں۔
وانظر ما تقدم برقم (4853).
حوالہ: گزشتہ نمبر (4853) ملاحظہ کریں۔
والحِدّة: الغضب. والحَرَد: الغضب أيضًا.
لغوی تشریح: "الحِدَّۃ": غصہ۔ اور "الحَرَد": اس کا مطلب بھی غصہ ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4872 سے ماخوذ ہے۔