المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
رُؤْيَا عُثْمَانَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ لَهُ " أَفْطِرْ عِنْدَنَا " . باب: سیدنا عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا خواب کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہمارے پاس افطار کرنا
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني، حَدَّثَنَا حامد بن أبي حامد المقرئ، حَدَّثَنَا إسحاق بن سليمان الرازي، سمعت كثيرًا أبا النضر يقول: سمعتُ رِبعيَّ بنَ حِراشٍ يقول: انطلقتُ إلى حذيفةَ بالمدائن لياليَ سارَ الناسُ إلى عثمان، فقال: يا بُنيّ، ما فعل قومُك؟ قال: عن أي حالِهم تسألُ؟ قال: مَن خرج منهم إلى هذا الرجل؟ فسمَّيتُ له رجلًا ممن خرج فقال: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول: "من فارقَ الجماعةَ واستذلَّ الإمارةَ، لقيَ الله ولا حُجّة لَه عندَه" (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4561 - حذفه الذهبي من التلخيصربعی بن حراش سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں مدائن میں سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس ان دنوں گیا جب لوگ (فتنہ و فساد کے لیے) سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف چل پڑے تھے، تو انہوں نے پوچھا: اے میرے بیٹے! تمہاری قوم نے کیا کیا؟ میں نے عرض کیا: آپ ان کی کس حالت کے بارے میں پوچھ رہے ہیں؟ انہوں نے کہا: ان میں سے کون اس شخص (عثمان رضی اللہ عنہ) کی طرف (بغاوت کے لیے) نکلا ہے؟ پس میں نے ان کے سامنے ایک ایسے شخص کا نام لیا جو (مدینہ کی طرف) نکل چکا تھا، تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”جس نے جماعت (مسلمانوں کے سوادِ اعظم) کو چھوڑا اور امارت (حکمرانی و قیادت) کی توہین کی، وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ اس کے پاس (اپنے دفاع میں) اللہ کے ہاں کوئی عذر یا دلیل نہیں ہوگی۔“
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: (1) اس کی سند حسن ہے، اور یہ نمبر (414) کا تکرار ہے۔