حدیث نمبر: 4555
حَدَّثَنَا أبو بكر بن أبي دارِم الحافظ بالكوفة، حَدَّثَنَا عُبيد بن حاتم الحافظ، حَدَّثَنَا داود بن رُشَيد، حَدَّثَنَا الهيثم بن عَدِي، حَدَّثَنَا يونس بن أبي إسحاق، عن الشَّعْبي: أنَّ عمر بن الخطاب كتب إلى سعد بن أبي وقّاص: أن اتخِذْ للمسلمين دارَ هجرةٍ ومَنزلَ جِهادٍ، فبعث سعدٌ رجلًا من الأنصار يقال له: الحارث بن سَلمة، فارتادَ لهم موضعَ الكوفةِ اليومَ، فنزلها سعدٌ بالناس، فخطَّ مسجدَها (1)، وخطَّ فيها الخِطَط، قال الشَّعْبي: وكان ظهرُ الكوفة يُنبِت الخُزامَى والشِّيْح، والأُقحُوان، وشقائق النُّعمان، فكانت العربُ تُسمِّيه في الجاهلية خَدَّ العَذْراء، فارتادُوا فكتبوا إلى عُمر بن الخطّاب، فكتب: أنِ انزلوه، فتحوّل الناسُ إلى الكوفة (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4505 - الهيثم بن عدي ساقط
حافظ طلحہ بابر

شعبی سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ مسلمانوں کے لیے ہجرت کا گھر اور جہاد کی منزل (شہر) منتخب کریں، چنانچہ سیدنا سعد نے انصار کے ایک شخص کو بھیجا جنہیں حارث بن سلمہ کہا جاتا تھا، انہوں نے ان کے لیے اس جگہ کا انتخاب کیا جہاں آج کوفہ آباد ہے، پس سیدنا سعد لوگوں کے ساتھ وہاں اترے، اس کی مسجد کا نقشہ بنایا اور شہر کی حدود مقرر کیں، شعبی کہتے ہیں: کوفہ کی زمین پر خزامی، شیح، اقحوان اور شقائق النعمان (خوشبودار پھول اور جڑی بوٹیاں) اگتے تھے اور اہل عرب جاہلیت میں اسے «خد العذراء» (کنواری کا رخسار) یعنی نہایت خوبصورت اور زرخیز زمین کہتے تھے، انہوں نے یہ جگہ پسند کر کے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو خط لکھا، تو آپ نے جواب دیا: ”وہیں پڑاؤ کر لو“، چنانچہ لوگ کوفہ کی طرف منتقل ہو گئے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 4555
درجۂ حدیث محدثین: إسناده تالف بمرّة من أجل الهيثم بن عدي
تخریج حدیث «إسناده تالف بمرّة من أجل الهيثم بن عدي، فهو ساقط كما قال الذهبي في "تلخيصه"، وكذَّبه البخاري وابن مَعِين وأبو داود وغيرهم.» [ترقيم الرساله 4555] [ترقيم الشركة 4531] [ترقيم العلميه 4505]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) في (ز) و (ب): مسجدنا.
نوٹ / توضیح: نسخہ (ز) اور (ب) میں "مسجدنا" ہے۔
(2) إسناده تالف بمرّة من أجل الهيثم بن عدي، فهو ساقط كما قال الذهبي في "تلخيصه"، وكذَّبه البخاري وابن مَعِين وأبو داود وغيرهم.
درجۂ حدیث: اس کی سند الہیثم بن عدی کی وجہ سے بالکل بیکار (تالف) ہے۔
فنی نکتہ / علّت: وہ ساقط الاعتبار ہے جیسا کہ حافظ ذہبی نے "تلخیص المستدرک" میں فرمایا ہے، اور اسے امام بخاری، ابن معین اور ابو داود وغیرہ نے جھوٹا قرار دیا ہے۔
وقد روى نحوه في قصة اتخاذ الكوفة قيس بن أبي خازم عند الطبري في "تاريخه" 3/ 579 بسند لا بأس به عنه.
تفصیلِ روایت: کوفہ کو آباد کرنے کے قصے میں اسی طرح کی روایت قیس بن ابی حازم نے طبری کے ہاں "تاریخ الامم والملوک" (3/ 579) میں بیان کی ہے جس کی سند میں کوئی حرج نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4555 سے ماخوذ ہے۔