المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
مُخَاطَبَةُ الصَّحَابَةِ أَبَا بَكْرٍ بِـ " يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللَّهِ " . باب: صحابہ کرامؓ کا حضرت ابو بکرؓ کو "یا خلیفۃ رسول اللہ" کہہ کر خطاب کرنا
حدیث نمبر: 4519
حدثنا علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدثنا عمر بن حفص السَّدُوسي، حدثنا عاصم بن علي، حدثنا سليمان بن المغيرة عن ثابت عن أنس، قال: طُفْنا بغُرفةٍ فيها أبو بكر حين أصابَه وَجَعُه الذي قُبض فيه، فاطّلع علينا اطِّلاعةً، فقال: أليس تَرضَون بما أصنَعُ؟ قلنا: بلى يا خليفةَ رسولِ الله (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4469 - على شرط مسلمحافظ طلحہ بابر
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم اس بالا خانے کے گرد چکر لگا رہے تھے جس میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اس بیماری کے دوران مقیم تھے جس میں ان کی وفات ہوئی، انہوں نے ہماری طرف جھانک کر دیکھا اور پوچھا: ”کیا تم اس فیصلے سے راضی ہو جو میں نے کیا ہے؟“ ہم نے عرض کیا: ”جی ہاں، اے اللہ کے رسول کے خلیفہ!“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل عاصم بن علي - وهو الواسطي - وقد توبع. فقد أخرجه ابن سعد في "طبقاته الكبرى" 3/ 176 عن عمرو بن عاصم الكلابي، والبلاذُري في "أنساب الأشراف" 10/ 77 عن سعدَويه الواسطي، كلاهما عن سليمان بن المغيرة، عن ثابت، عن أنس قال: أطفنا بغرفة أبي بكر الصّدّيق في مرضته التي قُبض فيها، قال: فقلنا: كيف أصبح أو كيف أمسى خليفةُ رسول الله؟ قال: فاطلع علينا اطّلاعةً، فقال: ألستم تَرضون بما أصنع؟ قلنا: بلى قد رضينا. هذا لفظ عمرو بن عاصم، ولفظ سعدويه فيه اختصار.
درجۂ حدیث: یہ خبر "صحیح" ہے، اور یہ موجودہ سند "حسن" ہے کیونکہ اس میں عاصم بن علی (الواسطی) ہیں، اور ان کی متابعت بھی موجود ہے۔
متابعات: ابن سعد نے "الطبقات" (3/ 176) میں عمرو بن عاصم الکلابی سے، اور بلاذری نے "انساب الاشراف" (10/ 77) میں سعدویہ الواسطی سے روایت کیا ہے۔ یہ دونوں (عمرو اور سعدویہ) اسے سلیمان بن مغیرہ سے، وہ ثابت سے اور وہ حضرت انس سے روایت کرتے ہیں کہ: "ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وفات والے مرض کے دوران ہم ان کے کمرے کے گرد جمع ہوئے اور پوچھا: خلیفۂ رسول اللہ کی صبح یا شام کیسی گزری؟ تو انہوں نے ہم پر جھانکا اور فرمایا: کیا تم میرے فیصلوں پر راضی نہیں ہو؟ ہم نے کہا: کیوں نہیں! ہم راضی ہیں۔" یہ عمرو بن عاصم کے الفاظ ہیں جبکہ سعدویہ کے الفاظ میں اختصار ہے۔
درجۂ حدیث: یہ خبر "صحیح" ہے، اور یہ موجودہ سند "حسن" ہے کیونکہ اس میں عاصم بن علی (الواسطی) ہیں، اور ان کی متابعت بھی موجود ہے۔
متابعات: ابن سعد نے "الطبقات" (3/ 176) میں عمرو بن عاصم الکلابی سے، اور بلاذری نے "انساب الاشراف" (10/ 77) میں سعدویہ الواسطی سے روایت کیا ہے۔ یہ دونوں (عمرو اور سعدویہ) اسے سلیمان بن مغیرہ سے، وہ ثابت سے اور وہ حضرت انس سے روایت کرتے ہیں کہ: "ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وفات والے مرض کے دوران ہم ان کے کمرے کے گرد جمع ہوئے اور پوچھا: خلیفۂ رسول اللہ کی صبح یا شام کیسی گزری؟ تو انہوں نے ہم پر جھانکا اور فرمایا: کیا تم میرے فیصلوں پر راضی نہیں ہو؟ ہم نے کہا: کیوں نہیں! ہم راضی ہیں۔" یہ عمرو بن عاصم کے الفاظ ہیں جبکہ سعدویہ کے الفاظ میں اختصار ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4519 سے ماخوذ ہے۔