المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
يَتَجَلَّى اللَّهُ لِعِبَادِهِ فِي الْآخِرَةِ عَامَّةً ، لِأَبِي بَكْرٍ خَاصَّةً . باب: اللہ تعالیٰ قیامت میں عام بندوں کے لیے جلوہ فرمائے گا اور حضرت ابو بکرؓ کے لیے خاص طور پر
حدیث نمبر: 4516
أخبرَناه أبو العبّاس المحبوبي، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا داود بن أبي هند، عن الشَّعْبي، عن ابن مسعود، قال: لما قُبضَ النبيُّ - لى الله عليه وسلم - اجتمعَ المهاجرون والأنصار إلى سَقِيفة بني ساعِدةَ في بَيعة أبي بكرٍ، فأتيتُ أمَّ سلمةَ فقلتُ لها: بايَعَ الناسُ أبا بكرٍ (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4466 - سكت عنه الذهبي في التلخيصحافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ جب نبی کریم ﷺ کی وفات ہوئی تو مہاجرین اور انصار ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت کے لیے سقیفہ بنی ساعدہ میں جمع ہوئے، پس میں ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور انہیں بتایا کہ لوگوں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لی ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) رجاله ثقات لكنه مرسل كما قال المصنِّف.
درجۂ حدیث: اس کے راوی "ثقہ" ہیں لیکن یہ روایت "مرسل" ہے جیسا کہ مصنف نے فرمایا۔
درجۂ حدیث: اس کے راوی "ثقہ" ہیں لیکن یہ روایت "مرسل" ہے جیسا کہ مصنف نے فرمایا۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4516 سے ماخوذ ہے۔