المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
تَوْضِيحُ مَعْنَى ( مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ ) . باب: آیت "جو برائی کرے گا اس کا بدلہ پائے گا" کے معنی کی وضاحت
أخبرني أبو العبّاس محمد بن أحمد المحبُوبي بمَرْو، حدثنا أحمد بن سَيَّار، حدثنا محمد بن كثير، حدثنا سفيان، عن إسماعيل بن أبي خالد، عن أبي بكر بن أبي زهير، عن أبي بكر الصِّديق، قال: قلتُ: يا رسولَ الله، كيف الصلاحُ بعدَ هذه الآية: ﴿مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ﴾ [النساء:123]، فكلُّ سوء عملناهُ جُزينا به؟ قال: "غَفَرَ اللهُ لك يا أبا بكر - قاله ثلاثًا - يا أبا بكر الستَ تَمرضُ؟ ألستَ تَحزَنُ؟ الستَ تَنْصَبُ؟ الستَ تُصيبُك الَّلأواءُ؟ "، قلت: نعم، قال: "فهو ما تُجزَون به في الدنيا" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4450 - صحيحسیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اس آیت کے بعد اصلاح کی کیا صورت ہے: ﴿مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ﴾ [سورة النساء: 123] ”جو کوئی برا عمل کرے گا اسے اس کا بدلہ دیا جائے گا“، تو کیا ہم جو بھی برا عمل کریں گے ہمیں اس کی سزا دی جائے گی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تمہاری مغفرت فرمائے اے ابوبکر - یہ آپ نے تین بار فرمایا - اے ابوبکر! کیا تم بیمار نہیں ہوتے؟ کیا تم غمگین نہیں ہوتے؟ کیا تم تھکاوٹ اور مشقت کا شکار نہیں ہوتے؟ کیا تم پر تکالیف نہیں آتیں؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہی وہ (تکالیف) ہیں جن کے ذریعے تمہیں دنیا میں (برائیوں کا) بدلہ دے دیا جاتا ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: حدیث اپنے طرق کی وجہ سے ’’صحیح‘‘ ہے، اگرچہ اس سند کے رجال ثقہ ہیں لیکن یہ ’’منقطع‘‘ ہے۔
فنی نکتہ / علّت: ابوبکر بن ابی زہیر نے ابوبکر صدیق کو نہیں پایا، اور احمد (68) کی روایت میں تصریح کی ہے کہ انہوں نے نہیں سنا (کہا: مجھے خبر دی گئی کہ ابوبکر نے کہا)۔ لیکن یہ ابوبکر سے دیگر طرق سے مروی ہے جن سب میں کلام ہے، مگر مل کر حدیث صحیح ہو جاتی ہے۔ نیز غیر ابوبکر سے اس کے شواہد بھی موجود ہیں۔
وأخرجه أحمد 1 / (68 - 71)، وابن حبان (2910) و (2926) من طرق عن إسماعيل بن أبي خالد، به.
حوالہ / مصدر: اسے احمد 1/ (68-71)، ابن حبان (2910، 2926) نے اسماعیل بن ابی خالد سے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
وأخرجه بنحوه الترمذي (3039) من طريق روح بن عُبادة، عن موسى بن عُبيدة، عن مولى ابن سِباع، عن عبد الله بن عُمر، عن أبي بكر الصديق. وقال الترمذي: حديث غريب، وفي إسناده مقال موسى بن عُبيدة يضعّف في الحديث، ومولى ابن سِباع مجهول. قلنا: قد جزم روح في رواية له عند الخطيب البغدادي في "موضح أوهام الجمع والتفريق" 1/ 150، بأنَّ مولى ابن سباع هذا هو عطاء بن يعقوب، وبذلك جزم علي بن المديني، كما نقله عنه الخطيب. فإذا صحَّ ذلك بقي ضعف موسى بن عُبيدة، لأنَّ عطاء بن يعقوب ثقة، وقيل: له رؤية.
حوالہ / مصدر: اسے ترمذی (3039) نے روح بن عبادہ > موسیٰ بن عبیدہ > مولیٰ ابن سباع > عبداللہ بن عمر > ابوبکر صدیق سے تخریج کیا اور اسے ’’غریب‘‘ کہا۔
فنی نکتہ / علّت: موسیٰ بن عبیدہ ضعیف ہے اور مولیٰ ابن سباع مجہول ہے۔ ہم کہتے ہیں: روح نے (خطیب: موضح اوہام 1/ 150) یقین سے کہا کہ مولیٰ ابن سباع ’’عطاء بن یعقوب‘‘ ہیں، اور علی بن المدینی نے بھی یہی یقین کیا ہے۔ اگر یہ صحیح ہو تو صرف موسیٰ بن عبیدہ کا ضعف باقی رہ جاتا ہے، کیونکہ عطاء بن یعقوب ثقہ ہیں (اور ان کی رؤیت بھی کہی گئی ہے)۔
وله طريق ثالثة عند الطبري في "تفسيره" 5/ 294، والخطيب في "تالي تلخيص المتشابه" 2/ 574 - 575 من رواية زيد بن الحباب العُكلي، عن عبد الملك بن الحسن الحارثي، عن محمد بن زيد بن المهاجر بن قنفذ عن عائشة، عن أبي بكر بنحوه. وهذه الطريق رجالها ثقات، فإن ثبت سماعُ محمد بن زيد بن المهاجر من عائشة، فالإسناد قويّ.
تفصیلِ روایت: اس کا تیسرا طریق طبری (5/ 294) اور خطیب (2/ 574-575) میں زید بن الحباب > عبدالملک بن الحسن الحارثی > محمد بن زید بن المہاجر > عائشہ > ابوبکر سے مروی ہے۔ اس کے رجال ثقہ ہیں، اگر محمد بن زید کا عائشہ سے سماع ثابت ہو تو سند قوی ہے۔
وطريق رابعة عند سعيد بن منصور في قسم التفسير من "سننه" (700)، والطبري 5/ 295 من رواية أبي معاوية الضرير عن الأعمش، عن مسلم بن صُبيح، قال: قال أبو بكر … بنحوه، ورجالها ثقات، لكنها مرسلة.
تفصیلِ روایت: چوتھا طریق سعید بن منصور (700) اور طبری (5/ 295) میں ابو معاویہ الضریر > الاعمش > مسلم بن صبیح سے مروی ہے (کہ ابوبکر نے کہا...)۔ اس کے رجال ثقہ ہیں لیکن یہ مرسل ہے۔
وطريق خامسة ضعيفة ستأتي عند المصنف برقم (6476).
نوٹ / توضیح: پانچواں طریق ضعیف ہے جو مصنف کے ہاں (نمبر 6476) پر آئے گا۔
وفي الباب عن أبي هريرة عند أحمد 13 / (8027)، والبخاري (5642)، ومسلم (2573)، وتقدَّم عند المصنف برقم (1297) و (1298) من طرق عن أبي هريرة، بألفاظ متعددة كلها بمعنى حديث أبي بكر الصديق.
متابعات و شواہد: باب میں ابوہریرہ سے (احمد 8027، بخاری 5642، مسلم 2573، مصنف 1297، 1298) متعدد الفاظ کے ساتھ مروی ہے جو سب ابوبکر کی حدیث کے ہم معنی ہیں۔
وعن عائشة عند أحمد 40 / (24114) و (24368)، والبخاري (5640)، ومسلم (2572)، وغيرهم من طرق عن عائشة، وبألفاظ متعددة كذلك بمعنى حديث أبي بكر.
متابعات و شواہد: اور عائشہ سے (احمد 24114، 24368، بخاری 5640، مسلم 2572) بھی متعدد الفاظ کے ساتھ مروی ہے جو ابوبکر کی حدیث کے ہم معنی ہیں۔