المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
أَحَبُّ النَّاسِ إِلَى النَّبِيِّ أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ عُمَرُ ثُمَّ أَبُو عُبَيْدَةَ . باب: نبی کریم ﷺ کو سب سے زیادہ محبوب حضرت ابو بکرؓ تھے، پھر حضرت عمرؓ، پھر حضرت ابو عبیدہؓ
حدثنا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا عبد الله بن إدريس، عن محمد بن عمرو، عن يحيى بن عبد الرحمن بن حاطِب، قال: قالت عائشةُ: لما ماتت خَديجةُ جاءت خَولةُ بنت حَكيم إلى رسولِ الله ﷺ فقالت: ألا تَزَوَّجُ؟ قال: "مَن؟ " قالت: إن شئتَ بِكرًا، وإن شئتَ ثيّبًا، قال: ومَنِ البِكرُ ومَن الثيّبُ؟ قالت: أما البكرُ، فابنهُ أحبِّ خلقِ الله إليك، عائشةُ بنت أبي بكر، وأما الثيّبُ فسَوْدةُ بنت زَمْعة (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4445 - على شرط مسلمیحییٰ بن عبد الرحمن بن حاطب سے روایت ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: جب سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی وفات ہو گئی تو خولہ بنت حکیم رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں اور عرض کیا: کیا آپ نکاح نہیں کریں گے؟ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کس سے؟“ انہوں نے عرض کیا: اگر آپ چاہیں تو کنواری سے اور اگر چاہیں تو بیوہ (یا مطلقہ) سے، آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”کنواری کون ہے اور بیوہ کون؟“ انہوں نے عرض کیا: جہاں تک کنواری کا تعلق ہے تو وہ اللہ کی مخلوق میں آپ کے سب سے محبوب شخص کی صاحبزادی عائشہ بنت ابی بکر ہیں، اور بیوہ سودہ بنت زمعہ ہیں۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: اس کی سند محمد بن عمرو (ابن علقمہ اللیثی) اور احمد بن عبدالجبار (العطاردی) کی وجہ سے ’’حسن‘‘ ہے، کیونکہ یہ دونوں صدوق ہیں۔
وقد تقدَّم هذا الحديث برقم (2738) من طريق يحيى بن سعيد الأموي عن محمد بن عمرو.
نوٹ / توضیح: یہ حدیث (نمبر 2738) پر یحییٰ بن سعید الاموی > محمد بن عمرو کے طریق سے گزر چکی ہے۔