حدیث نمبر: 4391
أخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدَّثنا عبد الله بن أحمد بن حَنْبل، حدّثنى أبي حدَّثنا عبد الصمد بن عبد الوارث، حدَّثنا عكرمة بن عمار، حدَّثنا إياس بن سَلَمة، قال: حدّثنى أبي، قال: شَهِدنا مع رسولِ الله ﷺ خَيبرَ حين بَصَقَ رسولُ الله ﷺ في عينَي عليٍّ فبَرَأ، فأعطاهُ الرايةَ، فبرزَ مَرحبٌ وهو يقولُ: قد عَلِمتُ خيبرُ أني مَرْحَبُ … شاكِي السلاحِ بَطَلٌ مَجرَّبُ إذا الحُروبُ أقبلتْ تَلَهَّبُ قال: فبرزَ له عليٌّ وهو يقول: أنا الذي سَمَّتني أُمِّي حَيدَرَهْ … كلَيثِ غاباتٍ كَرِيهِ المَنْظَرَهْ أُوفِيكُمُ بالصاعِ كَيْلَ السَّنْدَرَهْ قال: فضَرَبَ مَرْحَبًا، ففَلَقَ رأسَه فقَتَلَه، وكان الفتحُ (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4343 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر

سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: ہم غزوہ خیبر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حاضر تھے، اس وقت رسول اللہ ﷺ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی آنکھوں میں اپنا لعابِ دہن ڈالا تو وہ ٹھیک ہو گئے، پھر آپ ﷺ نے انہیں جھنڈا عطا فرمایا، پس (دشمن کا پہلوان) مرحب یہ اشعار پڑھتا ہوا نکلا: ”خیبر خوب جانتا ہے کہ میں مرحب ہوں، ہتھیاروں سے لیس اور آزمودہ کار بہادر ہوں، جب جنگیں بھڑک اٹھتی ہیں تو میں بھی شعلہ بن جاتا ہوں“، تو اس کے مقابلے میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ یہ کہتے ہوئے نکلے: ”میں وہ ہوں جس کا نام میری ماں نے حیدر (شیر) رکھا ہے، جنگل کے اس ببر شیر کی طرح جو دیکھنے میں نہایت ہیبت ناک ہوتا ہے، میں تمہیں صاع کے بدلے بڑے پیمانے (سندرہ) سے ناپ کر پورا بدلہ دوں گا“، راوی کہتے ہیں: پھر انہوں نے مرحب پر ایسی ضرب لگائی کہ اس کا سر پھاڑ دیا اور اسے قتل کر دیا، اور یوں فتح نصیب ہوئی۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب المغازي والسرايا / حدیث: 4391
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،وسلمة: هو ابن الأكوع.» [ترقيم الرساله 4391] [ترقيم الشركة 4368] [ترقيم العلميه 4343]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح. وسلمة: هو ابن الأكوع.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ / تعیینِ راوی: "سلمہ" سے مراد سلمہ بن الاکوع ؓ ہیں۔
وهو في "مسند أحمد" 27/ (16538) لكن عن أبي النضر هاشم بن القاسم، عن عكرمة.
حوالہ / مصدر: یہ روایت "مسند احمد" (27/ 16538) میں موجود ہے، لیکن وہاں ابو النضر ہاشم بن القاسم عن عکرمہ کے واسطے سے ہے۔
وهو عند البيهقيّ في "السنن الكبرى" 9/ 131، وفي "دلائل النبوة" 4/ 207 عن أبي عبد الله الحاكم، عن أبي الفضل بن إبراهيم، عن أحمد بن سلمة، عن محمد بن يحيى الذُّهلي، عن عبد الصمد.
حوالہ / مصدر: اور بیہقی کی "السنن الکبریٰ" (9/ 131) اور "دلائل النبوۃ" (4/ 207) میں ابو عبداللہ الحاکم سے مروی ہے، انہوں نے ابو الفضل بن ابراہیم سے، انہوں نے احمد بن سلمہ سے، انہوں نے محمد بن یحییٰ الذہلی سے، انہوں نے عبدالصمد سے روایت کیا ہے۔
وهو أيضًا في زيادات إبراهيم بن محمد بن سفيان على "صحيح مسلم" بإثر الحديث (1807) عن محمد بن يحيى الذّهلي، عن عبد الصمد.
حوالہ / مصدر: نیز یہ روایت ابراہیم بن محمد بن سفیان کی "صحیح مسلم" پر زیادات میں حدیث نمبر (1807) کے بعد موجود ہے، جو محمد بن یحییٰ الذہلی عن عبدالصمد کے طریق سے ہے۔
وأخرجه مسلم (1807)، وابن حبان (6935) من أربعة طرق عن عكرمة بن عمار، به.
حوالہ / مصدر: اسے مسلم (1807) اور ابن حبان (6935) نے عکرمہ بن عمار سے چار مختلف طرق سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4391 سے ماخوذ ہے۔