حدیث نمبر: 439
حدثنا أبو جعفر محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا أبو سهل بِشْر بن سهل، حدثنا أبو صالح عبد الله بن صالح، حدثني يحيى بن أيوب، عن عبد الرحمن بن حَرْمَلة الأسلَمي، عن سعيد بن المسيّب قال: لمّا وَلِيَ عمرُ بن الخطَّاب خَطَبَ الناسَ على مِنبَر رسول الله ﷺ، فحَمِدَ الله وأثنى عليه، ثم قال: أيها الناس، إني قد علمتُ أنكم تُؤنِسون مني شِدَّةً وغِلظةً، وذلك أني كنتُ مع رسول الله ﷺ فكنت عبدَه وخادَمه، وكان - كما قال الله - بالمؤمنين رؤوفًا رحيمًا، فكنت بين يديهِ كالسيفِ المسلول إلّا أن يَغمِدَني أو ينهاني عن أمرٍ، فأكُفَّ، وإلّا أقدمتُ على الناس لمكان لِينِه (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، وأبو صالح فقد احتَجَّ به البخاري، فأما سماع سعيد عن عمر فمُختلَف فيه، وأكثر أئمَّتِنا على أنه قد سمع منه، وهذه ترجمة معروفة في المسانيد.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 434 - حديث منكر
حافظ طلحہ بابر

سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ جب سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے منبر پر کھڑے ہو کر لوگوں کو خطبہ دیا، اللہ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا: اے لوگو! میں جانتا ہوں کہ تم مجھ میں سختی اور درشتی محسوس کرتے ہو، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھا اور آپ کا خادم و غلام تھا، اور آپ ﷺ جیسا کہ اللہ نے فرمایا ”مؤمنوں پر نہایت شفیق اور مہربان“ تھے، تو میں آپ کے سامنے برہنہ تلوار کی طرح تھا (سخت گیر تھا) الا یہ کہ آپ ﷺ مجھے میان میں کر دیتے یا روک دیتے تو میں رک جاتا، ورنہ آپ ﷺ کی نرمی کی وجہ سے میں لوگوں پر سختی کرتا تھا۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے، امام بخاری نے ابوصالح سے احتجاج کیا ہے، سعید کا عمر رضی اللہ عنہ سے سماع اگرچہ اختلافی ہے مگر اکثر ائمہ کے نزدیک ثابت ہے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب العلم / حدیث: 439
درجۂ حدیث محدثین: إسناده إلى سعيد بن المسيب حسن إن شاء الله
تخریج حدیث «إسناده إلى سعيد بن المسيب حسن إن شاء الله، وهو عن عمر مرسل، فإنَّ سعيد بن المسيب لم يكن إذ ذاك قد وُلدَ، فإنَّ ولادته كانت لسنتين مضتا من خلافة عمر، لكن مراسيله عند جمهور أهل العلم قوية، ومع ذلك قال الذهبي في "تلخيصه": حديث منكر-» [ترقيم الرساله 439] [ترقيم الشركة 433] [ترقيم العلميه 434]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده إلى سعيد بن المسيب حسن إن شاء الله، وهو عن عمر مرسل، فإنَّ سعيد بن المسيب لم يكن إذ ذاك قد وُلدَ، فإنَّ ولادته كانت لسنتين مضتا من خلافة عمر، لكن مراسيله عند جمهور أهل العلم قوية، ومع ذلك قال الذهبي في "تلخيصه": حديث منكر.
درجۂ حدیث: سعید بن مسیب تک سند ان شاء اللہ "حسن" ہے، مگر حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے یہ "مرسل" ہے؛ کیونکہ سعید بن مسیب اس وقت پیدا نہیں ہوئے تھے (ان کی پیدائش حضرت عمر کی خلافت کے دو سال گزرنے کے بعد ہوئی)۔
فنی نکتہ / علّت: اگرچہ جمہور اہل علم کے نزدیک سعید بن مسیب کی مراسیل قوی ہوتی ہیں، لیکن اس کے باوجود امام ذہبی نے "تلخیص" میں اسے "حدیث منکر" قرار دیا ہے۔
وأخرجه البيهقي في "الاعتقاد" ص 360 - 361 عن أبي عبد الله الحاكم وآخرين معه، بهذا الإسناد - بأطول ممّا هنا.
حوالہ / مصدر: اسے امام بیہقی نے "الاعتقاد" (ص 360-361) میں ابو عبد اللہ الحاکم اور دیگر اساتذہ کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ یہاں کے مقابلے میں زیادہ تفصیل سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه كذلك اللالكائي في "أصول الاعتقاد" (2526)، وابن عساكر في "تاريخ دمشق" 44/ 264 - 265 و 265 - 266 من طرق عن عبد الله بن صالح، به.
حوالہ / مصدر: اسی طرح اسے امام لالکائی نے "اصول الاعتقاد" (2526) میں اور ابن عساکر نے "تاریخ دمشق" (44/ 264-266) میں عبد اللہ بن صالح (کاتِبِ لیث) کے مختلف طرق سے روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 439 سے ماخوذ ہے۔