حدیث نمبر: 4376
حدثنا أبو بكر بن أبي دارم الحافظ، حدثنا المنذر بن محمد اللخمي، حدثنا أبي، حدثنا يحيى بن محمد بن عباد بن هانئ، عن محمد بن إسحاق بن يَسار قال: حدثني عاصم بن عُمر بن قتادة، قال: لما قتل علي بن أبي طالب عمرو بن عبد وَدٍّ أنشأت أختُه عَمْرةُ بنت عبد وَدٍّ ترثيه، فقالت: لو كان قاتل عمرو غير قاتلِهِ … بَكَيْتُه ما أقام الروحُ فِي جَسَدي لكنَّ قاتِلَه مَن لا يُعاب به … وكانَ يُدعَى قديمًا بَيضةَ البَلَدِ (1)
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4330 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عاصم بن عمر بن قتادہ بیان کرتے ہیں کہ جب سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے عمرو بن عبد ود کو قتل کر دیا تو اس کی بہن عمرہ بنت عبد ود نے اس کا مرثیہ پڑھتے ہوئے یہ اشعار کہے: ”اگر عمرو کا قاتل ان کے علاوہ کوئی اور ہوتا تو میں تب تک روتی رہتی جب تک میری روح میرے جسم میں باقی ہے، لیکن اس کا قاتل وہ ہے جس پر کوئی عیب نہیں لگایا جا سکتا اور جسے قدیم زمانے سے ہی شہر کی عزت اور سردار پکارا جاتا رہا ہے۔“

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب المغازي والسرايا / حدیث: 4376
درجۂ حدیث محدثین: إسناده واهٍ بمرة
تخریج حدیث «إسناده واهٍ بمرة، فمن دون محمد بن إسحاق ما بين متروك ومجهول. والمنذر بن محمد: هو ابن سعيد بن أبي الجهم القابوسي الكوفي. على أنَّ هذه الأبيات مشهورة عند علماء السير والمغازي.» [ترقيم الرساله 4376] [ترقيم الشركة 4353] [ترقيم العلميه 4330]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده واهٍ بمرة، فمن دون محمد بن إسحاق ما بين متروك ومجهول. والمنذر بن محمد: هو ابن سعيد بن أبي الجهم القابوسي الكوفي. على أنَّ هذه الأبيات مشهورة عند علماء السير والمغازي.
درجۂ حدیث: اس کی سند "انتہائی کمزور" (واہٍ بمرۃ) ہے۔
فنی نکتہ / علّت: محمد بن اسحاق سے نیچے والے راوی یا تو "متروک" ہیں یا "مجہول"۔ منذر بن محمد سے مراد "ابن سعید بن ابی الجہم القابوسی الکوفی" ہے۔
اہم نکتہ: البتہ یہ اشعار سیرت اور مغازی کے علماء کے ہاں مشہور ہیں۔
وبيضة البلد، أي: أنه فردٌ ليس مثله في الشرف.
نوٹ / توضیح: "بیضۃ البلد": یعنی وہ یکتا اور تنہا ہے، شرف و عزت میں اس کی کوئی مثال نہیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4376 سے ماخوذ ہے۔