حدیث نمبر: 4296
حدثني أبو الفضل محمد بن إبراهيم المُزكِّي، حدثنا الحسين بن محمد بن زياد، حدثنا سعيد بن يحيى بن سعيد الأُمَوي، حدثنا أبي، حدثنا محمد بن إسحاق، حدثنا يزيد بن أبي حَبيب، عن مَرثَد بن عبد الله اليَزَني، عن عبد الرحمن بن عُسَيلة الصُّنابِحي، عن عُبادة بن الصامت، قال: كنا أحدَ عشرَ في العَقَبةِ الأُولى من العام المُقبِل، فبايَعْنا رسولَ الله ﷺ بَيْعةَ النساءِ قبل أن تُفرَض علينا الحربُ (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4250 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ ہم اگلے سال بیعتِ عقبہ اولیٰ میں گیارہ افراد تھے، پس ہم نے رسول اللہ ﷺ سے انہی شرائط پر بیعت کی جن پر عورتوں سے بیعت لی جاتی تھی (یعنی بیعتِ نساء)، اور یہ قتال و جنگ کے فرض ہونے سے پہلے کا واقعہ ہے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : آيات رسول الله صلى الله عليه وسلم التي في دلائل النبوة / حدیث: 4296
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من محمد بن إسحاق - وهو المطّلبي مولاهم، صاحب السيرة - وقد صرَّح بسماعه فانتفت شبهة تدليسه. لكن قوله في الخبر هنا: كنا أحد عشر، وهمٌ، صوابُه: اثني عشر، كما جاء في سائر روايات الحديث.» [ترقيم الرساله 4296] [ترقيم الشركة 4273] [ترقيم العلميه 4250]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من محمد بن إسحاق - وهو المطّلبي مولاهم، صاحب السيرة - وقد صرَّح بسماعه فانتفت شبهة تدليسه. لكن قوله في الخبر هنا: كنا أحد عشر، وهمٌ، صوابُه: اثني عشر، كما جاء في سائر روايات الحديث.
درجۂ حدیث: (2) یہ حدیث صحیح ہے اور اس کی سند محمد بن اسحاق (جو المطلبی، صاحبِ سیرت ہیں) کی وجہ سے حسن ہے، انہوں نے اپنے سماع کی صراحت کر دی ہے لہٰذا تدلیس کا شبہ ختم ہو گیا۔
نوٹ / تصحیح: لیکن خبر کے متن میں ان کا یہ کہنا: "کنا أحد عشر" (ہم گیارہ افراد تھے)، یہ وہم (غلطی) ہے؛ درست "اثنی عشر" (بارہ افراد) ہے، جیسا کہ حدیث کی دیگر تمام روایات میں آیا ہے۔
وأخرجه أحمد 37/ (22754) عن يعقوب بن إبراهيم بن سعد عن أبيه، عن ابن إسحاق، بهذا الإسناد. وزاد فيه نصَّ البيعة، فقال على أن لا نشرك بالله شيئًا، ولا نسرق، ولا نزنيَ، ولا نقتلَ أولادنا، ولا نأتي ببهتان نفتريه بين أيدينا وأرجُلنا، ولا نعصيَه في معروف، فإن وفيتم فلكم الجنة، وإن غشيتم من ذلك شيئًا فأمركم إلى الله، إن شاء عذَّبكم وإن شاء غفر لكم.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (37/ 22754) نے یعقوب بن ابراہیم بن سعد عن أبیہ عن ابن اسحاق کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
تفصیلِ روایت: انہوں نے اس میں "بیعت کے الفاظ" کا اضافہ کیا ہے، فرمایا: "(بیعت اس بات پر تھی کہ) ہم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں، چوری نہ کریں، زنا نہ کریں، اپنی اولاد کو قتل نہ کریں، اپنے ہاتھوں اور پاؤں کے درمیان کوئی بہتان نہ گھڑ لائیں، اور معروف کاموں میں نبی ﷺ کی نافرمانی نہ کریں۔ پس اگر تم نے یہ عہد پورا کیا تو تمہارے لیے جنت ہے، اور اگر تم نے ان میں سے کسی چیز کا ارتکاب کیا تو تمہارا معاملہ اللہ کے سپرد ہے، چاہے تو عذاب دے اور چاہے تو معاف کر دے۔"
وهو عند البخاري (3893) و (6873)، ومسلم (1709) من طريق الليث بن سعد، عن يزيد بن أبي حبيب، به لكن بذكر نصّ البيعة وحدَه، دون ذكر العدد وموضع البيعة ووقتها.
حوالہ / مصدر: یہ حدیث بخاری (3893 اور 6873) اور مسلم (1709) میں لیث بن سعد عن یزید بن ابی حبیب کے طریق سے موجود ہے، لیکن وہاں صرف بیعت کی عبارت مذکور ہے، تعداد، بیعت کی جگہ اور وقت کا ذکر نہیں ہے۔
وقد تابع ابنَ إسحاق على ذكر ذلك كلِّه الواقديُّ عن يزيد بن أبي حبيب، كما في "طبقات ابن سعد" 1/ 187.
متابعات و شواہد: ابن اسحاق کی متابعت ان تمام تفصیلات (تعداد و مقام وغیرہ) کے ذکر کرنے میں "واقدی" نے یزید بن ابی حبیب سے کی ہے، جیسا کہ "طبقات ابن سعد" (1/ 187) میں ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4296 سے ماخوذ ہے۔