حدیث نمبر: 4286
أخبرنا أبو عمرو عثمان أحمد بن عبد الله الدَّقَّاق ببغداد، حدثنا عبد الملك بن محمد الرَّقَاشي، حدثنا يعقوب بن إسحاق الحَضْرمي، أخبرنا عِكْرمة بن عمار، حدثنا أبو كثير الغُبَري، قال: قال أبو هُريرة: ما على وَجْه الأرض مؤمنٌ ولا مؤمنةٌ إلا وهو يُحبُّني، قال: قلتُ: وما عِلمُك بذلك يا أبا هريرة؟ قال: إني كنتُ أدعُو أمي إلى الإسلام، فتأبّى، وإني دعوتُها ذات يومٍ فأسمعَتْني في رسول الله ﷺ ما أكْرَهُ، فجئتُ إلى رسول الله ﷺ فقلتُ: يا رسول الله، إني كنتُ أدعُو أمّي إلى الإسلام، فتأبَى عليَّ، وإني دعوتُها يومًا، فأسمَعَتْني فيكَ ما أَكرَهُ، فَادْعُ الله يا رسول الله أن يهديَ أمَّ أبي هريرة إلى الإسلام، فدعا لها رسول الله ﷺ، فرجعتُ إلى أمّي أُبشِّرها بدعوةِ رسول الله ﷺ، فلما كنتُ على الباب إذا البابُ مغلقٌ فدققتُ البابَ، فسمعتْ حِسِّي فَلَبِسَتْ ثيابَها وجَعَلتْ على رأسِها خِمارَها، وقالت: ارفُقْ يا أبا هريرة، ففتحتْ لي، فلما دخلتُ قالت: أشهدُ أن لا إلهَ إلّا اللهُ وأنَّ محمدًا رسولُ الله، فرجعتُ إلى رسولِ الله ﷺ، وأنا أبكي من الفَرَح كما كنتُ أبكي من الحُزن، وجعلتُ أقول: أبشِرْ يا رسولَ الله، قد استجابَ اللهُ دعوتَك وهَدَى الله أمَّ أبي هريرة إلى الإسلام، فقلت: ادعُ الله أن يُحبِّبَني وأمي إلى عباده المؤمنين ويُحبِّبَهم إلينا، قال: فقال رسول الله ﷺ: "اللهم حَبَّب عُبيدَكَ هذا وأمه إلى عبادك المؤمنين، وحَبَّبهم إليهما"، فما على الأرضِ مؤمنٌ ولا مؤمنةٌ إلا وهو يُحبُّني وأُحِبُّه (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4240 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: روئے زمین پر کوئی بھی ایسا مومن مرد یا عورت نہیں ہے جو مجھ سے محبت نہ کرتا ہو، ان سے پوچھا گیا: اے ابوہریرہ! آپ کو یہ کیسے معلوم ہوا؟ انہوں نے کہا: میں اپنی والدہ کو اسلام کی دعوت دیتا تھا لیکن وہ انکار کر دیتی تھیں، ایک دن میں نے انہیں دعوت دی تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی شان میں ایسی نازیبا بات کہی جو مجھے سخت ناگوار گزری، میں روتا ہوا رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں اپنی والدہ کو اسلام کی طرف بلاتا تھا لیکن وہ انکار کرتی تھیں، آج میں نے انہیں دعوت دی تو انہوں نے آپ کے متعلق ایسی بات کہی جو مجھے ناپسند ہے، پس اے اللہ کے رسول! آپ اللہ سے دعا فرمائیں کہ وہ ابوہریرہ کی والدہ کو اسلام کی ہدایت دے دے، تو رسول اللہ ﷺ نے ان کے لیے دعا فرمائی، میں رسول اللہ ﷺ کی دعا کی خوشخبری لیے اپنی والدہ کی طرف واپس گیا، جب میں دروازے پر پہنچا تو وہ بند تھا، میری والدہ نے میرے آنے کی آہٹ محسوس کی تو انہوں نے اپنا لباس پہنا اور سر پر اوڑھنی اوڑھ لی اور کہا: اے ابوہریرہ! وہیں ٹھہر جاؤ، پھر انہوں نے میرے لیے دروازہ کھولا، جب میں داخل ہوا تو انہوں نے پکار کر کہا: ”میں گواہی دیتی ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں“، میں دوبارہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں خوشی سے اسی طرح رو رہا تھا جیسے پہلے غم کی وجہ سے رو رہا تھا، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! خوش ہو جائیے، اللہ نے آپ کی دعا قبول فرما لی اور ابوہریرہ کی والدہ کو ہدایت دے دی ہے، پھر میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اللہ سے دعا کیجیے کہ وہ مجھے اور میری والدہ کو اپنے مومن بندوں کا محبوب بنا دے اور مومنوں کو ہمارا محبوب بنا دے، تو رسول اللہ ﷺ نے یہ دعا فرمائی: «اللّٰهُمَّ حَبِّبْ عُبَيْدَكَ هٰذَا وَأُمَّهُ إِلَىٰ عِبَادِكَ الْمُؤْمِنِينَ، وَحَبِّبْهُمْ إِلَيْهِمَا» ”اے اللہ! اپنے اس چھوٹے سے بندے اور اس کی والدہ کو اپنے مومن بندوں کا محبوب بنا دے اور مومنوں کو ان کا محبوب بنا دے“، پس اب زمین پر کوئی بھی ایسا مومن مرد یا عورت نہیں ہے جو مجھ سے محبت نہ کرتا ہو اور میں اس سے محبت نہ کرتا ہو۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : آيات رسول الله صلى الله عليه وسلم التي في دلائل النبوة / حدیث: 4286
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد قوي من أجل عبد الملك بن محمد الرَّقَاشي، وقد توبع. وأخرجه أحمد 14/ (8259)، ومسلم (2491)، وابن حبان (7154) من طرق عن عكرمة بن عمار، به. واستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.» [ترقيم الرساله 4286] [ترقيم الشركة 4263] [ترقيم العلميه 4240]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد قوي من أجل عبد الملك بن محمد الرَّقَاشي، وقد توبع. وأخرجه أحمد 14/ (8259)، ومسلم (2491)، وابن حبان (7154) من طرق عن عكرمة بن عمار، به. واستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
درجۂ حدیث: (2) یہ حدیث صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: یہ سند عبدالملک بن محمد الرقاشی کی وجہ سے قوی ہے، اور ان کی متابعت بھی موجود ہے۔
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (14/ 8259)، مسلم (2491) اور ابن حبان (7154) نے عکرمہ بن عمار کے طرق سے روایت کیا ہے۔
نوٹ / توضیح: حاکم کا اس پر استدراک کرنا ان کا "ذہول" (بھول) ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4286 سے ماخوذ ہے۔