المستدرك على الصحيحين
كتاب : آيات رسول الله صلى الله عليه وسلم التي في دلائل النبوة— رسول اللہ ﷺ کی ان نشانیوں (معجزات) کا ذکر جو دلائلِ نبوت میں سے ہیں۔
سَلَامُ الْأَشْجَارِ وَالْجِبَالِ عَلَيْهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ باب: درختوں اور پہاڑوں کا نبی کریم ﷺ کو سلام کرنا
حدثنا أبو بكر أحمد بن كامل القاضي، حدثنا عبد الملك بن محمد الرَّقَاشي، حدثنا وهب بن جَرير، حدثنا شُعْبة، عن عمرو بن مُرّة، عن عبد الله بن سَلِمة، عن علي، قال: مَرِضتُ فأتى عليَّ النبيُّ ﷺ وأنا أقولُ: اللهم إن كان أجَلِي قد حَضَرَ فأرِحْني، وإن كان مُتأخِّرًا فارفَعْني، وإن كان البلاءُ فصَبِّرني، فقال: "ما قلتَ؟ " فأعَدْتُ، فقال رسول الله ﷺ: "اللهم اشفِهِ اللهم عافِهِ" ثم قال: "قُمْ"، فقمتُ، فما عادَ لي ذلك الوجَعُ بعدُ (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4239 - على شرط البخاري ومسلمسیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ میں بیمار ہو گیا تو نبی کریم ﷺ میرے پاس تشریف لائے جبکہ میں (دعا میں) یہ کہہ رہا تھا: «اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ أَجَلِي قَدْ حَضَرَ فَأَرِحْنِي، وَإِنْ كَانَ مُتَأَخِّرًا فَارْفَعْنِي، وَإِنْ كَانَ الْبَلَاءُ فَصَبِّرْنِي» ”اے اللہ! اگر میری موت کا وقت آ گیا ہے تو مجھے راحت عطا فرما، اور اگر ابھی دیر ہے تو مجھے (بیماری سے) شفا دے، اور اگر یہ کوئی آزمائش ہے تو مجھے صبر عطا فرما“، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے کیا کہا؟“ میں نے وہی الفاظ دہرائے، تو رسول اللہ ﷺ نے (میرے لیے) دعا فرمائی: «اللَّهُمَّ اشْفِهِ اللَّهُمَّ عَافِهِ» ”اے اللہ! اسے شفا عطا فرما، اے اللہ! اسے عافیت دے“، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اٹھو“، تو میں کھڑا ہو گیا اور اس کے بعد مجھے وہ تکلیف کبھی دوبارہ نہیں ہوئی۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: (1) یہ سند ان شاء اللہ حسن ہے۔
فنی نکتہ / علّت: یہ عبداللہ بن سلمہ (جو المرادی ہیں) کی وجہ سے حسن ہے۔ اسے ترمذی، ابن حبان اور ابن حجر نے "نتائج الافکار" (4/ 191) میں صحیح قرار دیا ہے۔
وأخرجه أحمد 2/ (637) و (638) و (841) و (1057)، والترمذي (3564)، والنسائي (10830)، وابن حبان (6940) من طرق عن شعبة، بهذا الإسناد. وقال الترمذي: حسن صحيح.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (2/ 637، 638، 841، 1057)، ترمذی (3564)، نسائی (10830) اور ابن حبان (6940) نے شعبہ کے واسطے سے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: امام ترمذی نے فرمایا: "یہ حدیث حسن صحیح ہے۔"