المستدرك على الصحيحين
ذكر أخبار سيد المرسلين صلى الله عليه وآله وسلم— سید المرسلین حضرت محمد ﷺ اور آپ کی آل کے حالات و واقعات کا ذکر
تَأْلِيفُ الْقُرْآنِ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ باب: رسول اللہ ﷺ کے عہدِ مبارک میں قرآنِ مجید کی ترتیب و تدوین
حدیث نمبر: 4263
حدثنا أبو سهل أحمد بن محمد بن زياد النَّحْوي، حدثنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا وهب بن جَرير بن حازم، حدثنا أبي، قال: سمعت يحيى بن أيوب يُحدِّث عن يزيدَ بن أبي حَبيب، عن عبد الرحمن بن شُمَاسة، عن زيد بن ثابت، قال: كنا عند رسول الله ﷺ تُؤلِّف القرآنَ من الرِّقَاع (4).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وفيه الدليل الواضح أنَّ القرآن إنما جُمع في عهد رسول الله ﷺ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4217 - على شرط البخاري ومسلمحافظ طلحہ بابر
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس کاغذ کے ٹکڑوں اور چمڑے کے پارچوں سے قرآن کو ترتیب دیا کرتے تھے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس میں واضح دلیل ہے کہ قرآن کریم رسول اللہ ﷺ ہی کے عہد مبارک میں جمع کر لیا گیا تھا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(4) إسناده حسن من أجل يحيى بن أيوب: وهو الغافقي. وقد تقدَّم برقم (2937) من طريق إبراهيم بن عبد الله السعدي عن وهب بن جَرير.
درجۂ حدیث: اس کی سند یحییٰ بن ایوب (الغافقی) کی وجہ سے "حسن" ہے۔
حوالہ / مصدر: یہ روایت نمبر (2937) میں ابراہیم بن عبد اللہ السعدی کے طریق سے وہب بن جریر کے واسطے سے گزر چکی ہے۔
درجۂ حدیث: اس کی سند یحییٰ بن ایوب (الغافقی) کی وجہ سے "حسن" ہے۔
حوالہ / مصدر: یہ روایت نمبر (2937) میں ابراہیم بن عبد اللہ السعدی کے طریق سے وہب بن جریر کے واسطے سے گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4263 سے ماخوذ ہے۔