حدیث نمبر: 4217
فحدثنا أبو حفص محمد بن أحمد (1) الفقيه ببُخاري، حدثنا صالح بن محمد بن حبيب الحافظ، حدثنا إبراهيم بن الحجّاج السامِيّ، حدثنا حمّاد بن سَلَمة، عن علي بن زيد، عن يوسف بن مِهران، عن ابن عبّاس، عن النبي ﷺ، قال: "كان عمرُ آدمَ ألفَ سنةٍ". قال ابن عبّاس: وبين آدم ونوح ألفُ سنة، وبين نوح وإبراهيم ألفُ سنة، وبين إبراهيم وموسى سبعُ مئة سنة، وبين موسى وعيسى خمسُ مئة سنة، وبين عيسى ومحمد ﷺ ست مئة سنة (2). قال الحاكم: وقد قدّمتُ الروايةَ الصحيحةَ عن رسول الله ﷺ أنه ليس بينه وبين عيسى نبيٌّ، وقد رُويَت أخبارٌ في خالد بن سِنانٍ وابنته التي دخلتْ على رسول الله ﷺ وقوله: "ابنة أخي، نبيٌّ ضيَّعه قومُه":
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”سیدنا آدم علیہ السلام کی عمر مبارک ایک ہزار سال تھی۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ آدم اور نوح علیہما السلام کے درمیان ایک ہزار سال کا فاصلہ تھا، نوح اور ابراہیم علیہما السلام کے درمیان ایک ہزار سال کا، ابراہیم اور موسیٰ علیہما السلام کے درمیان سات سو سال کا، موسیٰ اور عیسیٰ علیہما السلام کے درمیان پانچ سو سال کا اور عیسیٰ علیہ السلام اور محمد ﷺ کے درمیان چھ سو سال کا فاصلہ تھا۔
امام حاکم فرماتے ہیں کہ میں اس سے قبل رسول اللہ ﷺ سے مروی صحیح روایت پیش کر چکا ہوں کہ آپ ﷺ اور عیسیٰ علیہ السلام کے درمیان کوئی نبی نہیں ہے، البتہ خالد بن سنان اور ان کی صاحبزادی کے متعلق اخبار مروی ہیں جو رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے میری بھتیجی! (خالد بن سنان) ایسے نبی تھے جنہیں ان کی قوم نے ضائع کر دیا۔“

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين / حدیث: 4217
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف لضعف علي بن زيد - وهو ابن جُدعان -
تخریج حدیث «إسناده ضعيف لضعف علي بن زيد - وهو ابن جُدعان - وقد صحَّ عن ابن عبّاس في مدة ما بين آدم ونوح كما تقدم برقم (3695) و (4053)، وصحَّ مرفوعًا عن أبي أمامة كما تقدم برقم (3076) في مدة ما بين آدم ونوح، وبين نوح وإبراهيم.» [ترقيم الرساله 4217] [ترقيم الشركة 4194]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) كذا وقع في النسخ الخطية، ولم نقف للحاكم على شيخ بهذا الإسم، ويغلب على ظننا أنه محرَّف، عن أحمد بن أحيَد، أو عمر بن محمد، فكلاهما كناهما المصنف في كتابه هذا أبا حفص، ويرويان عن صالح بن محمد، والله تعالى أعلم.
فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں یہ نام اسی طرح واقع ہوا ہے، مگر حاکم کے شیوخ میں ہمیں اس نام کا کوئی شخص نہیں ملا۔ غالب گمان یہی ہے کہ یہ تحریف ہے، اصل نام "احمد بن احید" یا "عمر بن محمد" ہے، کیونکہ مصنف نے ان دونوں کی کنیت "ابو حفص" ذکر کی ہے اور یہ دونوں صالح بن محمد سے روایت کرتے ہیں۔
(2) إسناده ضعيف لضعف علي بن زيد - وهو ابن جُدعان - وقد صحَّ عن ابن عبّاس في مدة ما بين آدم ونوح كما تقدم برقم (3695) و (4053)، وصحَّ مرفوعًا عن أبي أمامة كما تقدم برقم (3076) في مدة ما بين آدم ونوح، وبين نوح وإبراهيم.
درجۂ حدیث: اس کی سند علی بن زید (ابن جدعان) کے ضعف کی وجہ سے ضعیف ہے۔
اہم نکتہ: آدم اور نوح علیہما السلام کے درمیانی وقفے کے بارے میں ابن عباس سے صحیح روایت (3695 اور 4053) پر گزر چکی ہے۔ نیز ابو امامہ سے مرفوعاً صحیح روایت (3076) پر گزر چکی ہے جس میں آدم سے نوح اور نوح سے ابراہیم علیہما السلام تک کی مدت کا ذکر ہے۔
وصحَّ أيضًا في عمر آدم مرفوعًا حديثُ أبي هريرة، كما تقدم بالأرقام (215) و (216) و (3296)، إلا أنَّ فيه أنه سأل الله ﷿ أن يُعطي ولده داود بعض عمره، واستجاب اللهُ له فأعطاه، وكذلك جاء في رواية علي بن زيد عن غير المصنف.
اہم نکتہ: حضرت آدم علیہ السلام کی عمر کے بارے میں ابو ہریرہ کی مرفوع حدیث (215، 216، 3296) صحیح ثابت ہے۔ اس میں ذکر ہے کہ انہوں نے اللہ سے سوال کیا کہ ان کی عمر کا کچھ حصہ ان کے بیٹے داؤد علیہ السلام کو دے دیا جائے، اللہ نے قبول فرمایا اور انہیں دے دیا۔ علی بن زید کی روایت میں بھی دیگر ذرائع سے یہی بات آئی ہے۔
وقد أخرج المرفوع في ذكر عمر آدم أحمدُ 4 / (2713) عن أسود بن عامر، عن حماد بن سلمة، بهذا الإسناد، مطولًا بنحو رواية أبي هريرة، إلّا أنه جاء في في الرواية المطولة أنَّ آدم لما جحد إعطاءه لابنه داود من عمره أتم الله له الألف سنة، وأتم لداود المئة سنة.
حوالہ / مصدر: آدم علیہ السلام کی عمر کے ذکر میں مرفوع روایت امام احمد نے 4/ (2713) میں اسود بن عامر کے طریق سے حماد بن سلمہ سے اسی سند کے ساتھ ابو ہریرہ کی روایت کی طرح مفصل نقل کی ہے۔
تفصیلِ روایت: اس طویل روایت میں یہ بھی ہے کہ جب آدم علیہ السلام نے اپنے بیٹے داؤد کو اپنی عمر کا حصہ دینے سے انکار کر دیا (بھول کی وجہ سے)، تو اللہ نے ان (آدم) کی ایک ہزار سال کی عمر مکمل کی اور داؤد علیہ السلام کی سو سال کی عمر مکمل کر دی۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4217 سے ماخوذ ہے۔