حدیث نمبر: 4201
أخبرني محمد بن إسحاق الصَّفّار العدل، حدثنا أحمد بن نصر، حدثنا عمرو بن حمّاد، حدثنا أسباطٌ، عن السُّدِّي، عن أبي مالك، عن ابن عبّاس. وعن مُرَّةَ، عن عبد الله، قالا: خرجتْ مريمُ إلى جانبِ المحرابِ بحَيضٍ أصابَها، فلما طَهُرَتْ إذا هي برجُل معها، وهو قوله: ﴿فَأَرْسَلْنَا إِلَيْهَا رُوحَنَا فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِيًّا﴾ [مريم:17]، وهو جبريلُ ﵇، ففَزِعتْ منه، فقالت: ﴿إِنِّي أَعُوذُ بِالرَّحْمَنِ مِنْكَ إِنْ كُنْتَ تَقِيًّا (18) قَالَ إِنَّمَا أَنَا رَسُولُ رَبِّكِ لِأَهَبَ لَكِ غُلَامًا زَكِيًّا﴾ الآية، فخرجتْ وعليها جِلْبابُها، فأخذ بكُمِّها فنَفَخَ فِي جَيبِ دِرْعِها - وكان مشقُوقًا من قُدّامها - فدخلت النَّفْخَة صَدْرَها فحَمَلَتْ، فأتتْها أختُها امرأةُ زكريا ليلةً تَزورُها، فلما فتَحتْ لها البابَ التزمَتْها، فقالت امرأةُ زكريا: يا مريم، أشَعَرْتِ أني حُبْلَى، فقالت مريم: أشعرتِ أيضًا أن حُبْلَى؟ قالت امرأةُ زكريا: فإني وجدتُ ما في بَطْنِي يَسجُد للذي في بطنِكِ، فذلك قوله ﷿: ﴿مُصَدِّقًا بِكَلِمَةٍ مِنَ اللَّهِ﴾ [آل عِمران:39] فوَلَدَتْ امرأةُ زكريا يحيى، ولما بلغ أن تَضَعَ مريمُ خَرجَتْ إلى جانبِ المِحرابِ ﴿فَأَجَاءَهَا الْمَخَاضُ إِلَى جِذْعِ النَّخْلَةِ قَالَتْ﴾ استحياء من الناس: ﴿يَالَيْتَنِي مِتُّ قَبْلَ هَذَا وَكُنْتُ نَسْيًا مَنْسِيًّا (23) فَنَادَاهَا﴾ جبريلُ ﴿مِنْ تَحْتِهَا أَلَّا تَحْزَنِي قَدْ جَعَلَ رَبُّكِ تَحْتَكِ سَرِيًّا (24) وَهُزِّي إِلَيْكِ بِجِذْعِ النَّخْلَةِ تُسَاقِطْ عَلَيْكِ رُطَبًا جَنِيًّا﴾ فهزته، فأُجريَ لها في المحراب نهرٌ، والسَّرِيّ: النهر، فتساقطت النخلةُ رطبًا جنيًّا، فلما وَلَدَتْه ذهبَ الشيطانُ فأخبر بني إسرائيل أنَّ مريم وَلَدَتْ، فلما أرادُوها على الكلام أشارتْ إلى عيسى، فتكلَّم عيسى، فقال: ﴿إِنِّي عَبْدُ اللَّهِ آتَانِيَ الْكِتَابَ وَجَعَلَنِي نَبِيًّا (30) وَجَعَلَنِي مُبَارَكًا﴾ فلما وُلِد عيسى لم يَبْقَ في الأرض صنمٌ يُعبَدُ من دون الله إلّا وقع ساجدًا لوجهِة (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4156 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر

ابو مالک نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اور مرہ نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، ان دونوں نے کہا: مریم علیہا السلام محراب کی ایک جانب نکلیں کیونکہ انہیں حیض آ گیا تھا، پھر جب وہ پاک ہوئیں تو اچانک ان کے ساتھ ایک آدمی تھا، اور یہی اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿فَأَرْسَلْنَا إِلَيْهَا رُوحَنَا فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِيًّا﴾ [سورة مريم: 17] ”پس ہم نے ان کی طرف اپنی روح (جبریل) کو بھیجا تو وہ ان کے سامنے ایک مکمل انسان کی صورت میں ظاہر ہوا۔“ وہ جبریل علیہ السلام تھے، پس وہ ان سے ڈر گئیں اور کہنے لگیں: ﴿إِنِّي أَعُوذُ بِالرَّحْمَنِ مِنْكَ إِنْ كُنْتَ تَقِيًّا﴾ [سورة مريم: 18] ”میں تجھ سے رحمٰن کی پناہ مانگتی ہوں اگر تو کچھ بھی ڈرنے والا ہے۔“ ﴿قَالَ إِنَّمَا أَنَا رَسُولُ رَبِّكِ لِأَهَبَ لَكِ غُلَامًا زَكِيًّا﴾ [سورة مريم: 19] ”اس (فرشتے) نے کہا: میں تو صرف تمہارے رب کا بھیجا ہوا ہوں تاکہ میں تمہیں ایک پاکیزہ لڑکا عطا کروں۔“ آخرِ آیت تک۔ پھر وہ (مریم علیہا السلام) نکلیں اور ان پر ان کی چادر (جلباب) تھی، تو انہوں نے (فرشتے نے) ان کی آستین پکڑی اور ان کے گریبان میں پھونک مار دی جو کہ ان کے سامنے سے چاک تھا۔ پس وہ پھونک ان کے سینے میں داخل ہو گئی اور وہ حاملہ ہو گئیں۔ ایک رات ان کی بہن (خالہ) جو زکریا علیہ السلام کی بیوی تھیں، ان سے ملنے آئیں، جب مریم نے ان کے لیے دروازہ کھولا تو وہ ان سے چمٹ گئیں۔ زکریا کی بیوی نے کہا: ”اے مریم! کیا تمہیں معلوم ہے کہ میں حاملہ ہوں؟“ مریم نے کہا: ”کیا آپ کو بھی معلوم ہے کہ میں (بھی) حاملہ ہوں؟“ زکریا کی بیوی نے کہا: ”میں نے محسوس کیا ہے کہ میرے پیٹ میں جو (بچہ) ہے، وہ تمہارے پیٹ والے (بچے) کو سجدہ کر رہا ہے۔“ تو یہی اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿مُصَدِّقًا بِكَلِمَةٍ مِنَ اللَّهِ﴾ [سورة آل عمران: 39] ”جو اللہ کے ایک کلمے کی تصدیق کرنے والا ہوگا۔“ چنانچہ زکریا کی بیوی نے یحییٰ (علیہ السلام) کو جنم دیا۔ اور جب مریم کے ہاں بچے کی ولادت کا وقت قریب آیا تو وہ محراب کے ایک طرف نکل گئیں۔ ﴿فَأَجَاءَهَا الْمَخَاضُ إِلَى جِذْعِ النَّخْلَةِ قَالَتْ﴾ [سورة مريم: 23] ”پھر دردِ زہ انہیں کھجور کے تنے کی طرف لے آیا، انہوں نے لوگوں سے شرم کی وجہ سے کہا: ﴿يَالَيْتَنِي مِتُّ قَبْلَ هَذَا وَكُنْتُ نَسْيًا مَنْسِيًّا﴾ [سورة مريم: 23] ”اے کاش! میں اس سے پہلے ہی مر گئی ہوتی اور بھولی بسری ہو چکی ہوتی۔“ ﴿فَنَادَاهَا﴾ ”تو انہیں آواز دی“ یعنی جبریل نے، ﴿مِنْ تَحْتِهَا أَلَّا تَحْزَنِي قَدْ جَعَلَ رَبُّكِ تَحْتَكِ سَرِيًّا﴾ [سورة مريم: 24] ”ان کے نیچے سے، کہ غم نہ کرو، بیشک تمہارے رب نے تمہارے نیچے ایک چشمہ جاری کر دیا ہے۔“ ﴿وَهُزِّي إِلَيْكِ بِجِذْعِ النَّخْلَةِ تُسَاقِطْ عَلَيْكِ رُطَبًا جَنِيًّا﴾ [سورة مريم: 25] ”اور کھجور کے تنے کو اپنی طرف ہلاؤ، وہ تم پر تازہ اور پکی ہوئی کھجوریں گرائے گا۔“ تو انہوں نے اسے ہلایا۔ پس ان کے لیے محراب میں ایک نہر جاری کر دی گئی، اور «السَّرِيّ» کا مطلب نہر ہے۔ تو کھجور کے درخت نے ان پر تازہ پکی ہوئی کھجوریں گرائیں۔ جب انہوں نے بچے (عیسیٰ علیہ السلام) کو جنم دیا تو شیطان گیا اور اس نے بنی اسرائیل کو خبر دی کہ مریم نے بچہ جنا ہے۔ پس جب لوگوں نے مریم سے بات کرنی چاہی تو انہوں نے عیسیٰ کی طرف اشارہ کر دیا۔ تو عیسیٰ علیہ السلام بول پڑے اور فرمایا: ﴿إِنِّي عَبْدُ اللَّهِ آتَانِيَ الْكِتَابَ وَجَعَلَنِي نَبِيًّا﴾ [سورة مريم: 30] ”بیشک میں اللہ کا بندہ ہوں، اس نے مجھے کتاب دی ہے اور مجھے نبی بنایا ہے۔“ ﴿وَجَعَلَنِي مُبَارَكًا﴾ [سورة مريم: 31] ”اور مجھے بابرکت بنایا ہے۔“ چنانچہ جب عیسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئے تو زمین پر کوئی ایسا بت باقی نہ رہا جس کی اللہ کے سوا پوجا کی جاتی ہو، مگر وہ اوندھے منہ گر پڑا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين / حدیث: 4201
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن من أجل أسباط بن نصر والسُّدِّي. أبو مالك: هو غزوان الغفاري
تخریج حدیث «إسناده حسن من أجل أسباط بن نصر والسُّدِّي. أبو مالك: هو غزوان الغفاري، ومُرَّة: هو ابن شراحيل الهَمْداني، وعبد الله: هو ابن مسعود.» [ترقيم الرساله 4201] [ترقيم الشركة 4178] [ترقيم العلميه 4156]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده حسن من أجل أسباط بن نصر والسُّدِّي. أبو مالك: هو غزوان الغفاري، ومُرَّة: هو ابن شراحيل الهَمْداني، وعبد الله: هو ابن مسعود.
درجۂ حدیث: اس کی سند اسباط بن نصر اور سدی کی وجہ سے "حسن" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: (راویوں کا تعین): ابو مالک سے مراد غزوان الغفاری، مرہ سے مراد ابن شراحیل ہمدانی اور عبد اللہ سے مراد ابن مسعود ہیں۔
وأخرجه الطبري في "تفسيره" 3/ 253 و 16/ 62 - 63، وفي "تاريخه" 1/ 599 عن موسى بن هارون، عن عمرو بن حماد، بهذا الإسناد. أسنده في "التاريخ" ولم يجاوز فيه السَّدِّي في "التفسير" اختصارًا كما تقدم تقريره برقم (4124).
حوالہ / مصدر: اسے طبری نے "تفسیر" 3/ 253 اور 16/ 62-63 میں اور اپنی "تاریخ" 1/ 599 میں موسیٰ بن ہارون سے، انہوں نے عمرو بن حماد سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
فنی نکتہ / علّت: طبری نے "تاریخ" میں تو اسے مسنداً بیان کیا ہے لیکن "تفسیر" میں اختصار کی وجہ سے اسے سدی سے آگے نہیں بڑھایا (یعنی سدی کا قول بنا دیا) جیسا کہ نمبر (4124) کے تحت اس کی وضاحت گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4201 سے ماخوذ ہے۔