المستدرك على الصحيحين
كتاب : تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين— سابقہ انبیاء و مرسلین کے واقعات
ذِكْرُ زَكَرِيَا بْنِ آدَنَ النَّبِيِّ - عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ - باب: اللہ کے نبی حضرت زکریا بن آدن علیہ السلام کا ذکر
حدیث نمبر: 4189
حدثنا محمد بن إسحاق السُّلَمي، حدثنا أحمد بن نصر، حدثنا عمرو بن حمّاد القَنّاد، حدثنا أسباط بن نَصْر، عن السُّدِّي، عن أبي مالك، عن ابن عبّاس. وعن السُّدِّي، عن مُرّة، عن عبد الله، قالوا: كان آخرَ أنبياء بني إسرائيل زكريا بنُ أدن بن مسلم، وكان من ذُرّية يعقوب، قال: ﴿يَرِثُنِي﴾ مُلْكي ﴿وَيَرِثُ مِنْ آلِ يَعْقُوبَ﴾ النبوةَ (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4144 - سكت عنه الذهبي في التلخيصحافظ طلحہ بابر
ابو مالک نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اور مرہ نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، انہوں نے کہا: بنی اسرائیل کے آخری نبی زکریا بن ادن بن مسلم تھے، اور وہ یعقوب علیہ السلام کی اولاد میں سے تھے۔ انہوں نے (اس آیت کی تفسیر میں) فرمایا: ”﴿يَرِثُنِي﴾ میری بادشاہت کا وارث بنے گا ﴿وَيَرِثُ مِنْ آلِ يَعْقُوبَ﴾ اور آلِ یعقوب سے نبوت کا وارث بنے گا۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده حسن من أجل السُّدِّي - وهو إسماعيل بن عبد الرحمن - وأسباط بن نَصْر. وروي عن السُّدِّي بإسناده المذكور في تفسير قول الله تعالى: ﴿يَرِثُنِي﴾: يرث نبوتي، كما سيأتي برقم (4191).
درجۂ حدیث: اس کی سند حسن ہے، سدی (اسماعیل بن عبد الرحمن) اور اسباط بن نصر کی وجہ سے۔
نوٹ / توضیح: سدی سے اسی سند کے ساتھ اللہ کے قول "یَرِثُنِي" کی تفسیر میں مروی ہے کہ اس سے مراد "میری نبوت کا وارث بنے" ہے، جیسا کہ نمبر (4191) پر آئے گا۔
درجۂ حدیث: اس کی سند حسن ہے، سدی (اسماعیل بن عبد الرحمن) اور اسباط بن نصر کی وجہ سے۔
نوٹ / توضیح: سدی سے اسی سند کے ساتھ اللہ کے قول "یَرِثُنِي" کی تفسیر میں مروی ہے کہ اس سے مراد "میری نبوت کا وارث بنے" ہے، جیسا کہ نمبر (4191) پر آئے گا۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4189 سے ماخوذ ہے۔