حدیث نمبر: 4132
حدثنا أحمد بن سهل الفقيه ببُخاري، حدثنا صالح بن محمد بن حبيب الحافظ، حدثنا أحمد بن عِمران الأخنسي، حدثنا محمد بن فُضَيل، حدثنا يونس بن أبي إسحاق، عن أبي بُردة، عن أبي موسى: أن رسول الله ﷺ نَزَل بأعرابيٍّ فأكرمَه، فقال له: "يا أعرابيُّ، سَلْ حاجتَك"، قال: يا رسول الله، ناقةٌ برَحْلِها، وأعنُزٌ يَحلُبها أهلي، قالها مرتين، فقال له رسول الله ﷺ: "أعجَزْتَ أن تكون مثلَ عجُوزِ بني إسرائيل؟ "، فقال له أصحابه: يا رسول الله، وما عَجوزُ بني إسرائيل؟ قال: "إنَّ موسى أراد أن يَسيرَ ببني إسرائيل، فأضَلَّ عن الطريق، فقال له عُلماءُ بني إسرائيل: نحن نُحدِّثك: إنَّ يوسف أخذ علينا مَواثيقَ اللهِ أن لا نَخرُج من مصرَ حتى نَنقُلَ عِظامَه معنا، قال: وأيكم يدري أين قبرُ يوسف؟ قالوا: ما ندري أين قبرُ يوسفَ إلّا عجوزُ بني إسرائيل، فأرسل إليها، فقال لها: دُلِّيني على قبر يوسف، قالت: لا والله لا أفعَلُ حتى أكونَ معك في الجنة، قال: وكَرِه رسولُ الله ما قالت، فقيل له: أعطِها حُكمَها، فأعطاها حُكمَها، فأتت بُحَيرةً، فقالت: أَنضِبُوا هذا الماءَ، فلما نَضَّبُوه، قالت: احفِرُوا هاهنا، فلما حَفَروا إذا عظامُ يُوسفَ، فلما أقلُّوها من الأرض فإذا الطريقُ مثلُ ضَوْء النهارِ" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ ایک اعرابی (دیہاتی) کے پاس ٹھہرے تو اس نے آپ ﷺ کی بڑی تکریم کی۔ آپ ﷺ نے اس سے فرمایا: ”اے اعرابی! اپنی کوئی ضرورت مانگو۔“ اس نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ! ایک اونٹنی مع کجاوہ کے اور کچھ بکریاں جن کا دودھ میرے گھر والے دوہ سکیں۔“ اس نے یہ بات دو مرتبہ کہی۔ رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا: ”کیا تم بنی اسرائیل کی اس بوڑھی عورت کی طرح بننے سے بھی عاجز ہو گئے؟“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ! بنی اسرائیل کی بوڑھی عورت کا کیا واقعہ ہے؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بلاشبہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو لے کر (مصر سے) نکلنے کا ارادہ کیا تو وہ راستہ بھول گئے۔ بنی اسرائیل کے علماء نے ان سے کہا: ہم آپ کو بتاتے ہیں، دراصل حضرت یوسف علیہ السلام نے ہم سے اللہ کے نام پر یہ پختہ عہد لیا تھا کہ ہم جب بھی مصر سے نکلیں تو ان کی ہڈیاں (یعنی جسد خاکی) اپنے ساتھ لے کر جائیں۔ موسیٰ علیہ السلام نے پوچھا: تم میں سے کون جانتا ہے کہ یوسف علیہ السلام کی قبر کہاں ہے؟ انہوں نے کہا: بنی اسرائیل کی ایک بوڑھی عورت کے سوا ہم میں سے کوئی نہیں جانتا کہ یوسف علیہ السلام کی قبر کہاں ہے۔ چنانچہ موسیٰ علیہ السلام نے اس کی طرف پیغام بھیجا اور اس سے فرمایا: مجھے یوسف علیہ السلام کی قبر کا راستہ بتاؤ۔ اس نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! میں اس وقت تک نہیں بتاؤں گی جب تک کہ میں جنت میں آپ کے ساتھ نہ ہوں۔ موسیٰ علیہ السلام کو اس کا یہ مطالبہ گراں گزرا، تو آپ کو (اللہ کی طرف سے) کہا گیا: اس کا مطالبہ مان لیجیے۔ چنانچہ آپ نے اس کا مطالبہ پورا کر دیا۔ پھر وہ ایک چھوٹی جھیل کے پاس آئی اور کہنے لگی: اس کا پانی نکال دو۔ جب انہوں نے پانی نکال دیا تو اس نے کہا: یہاں کھدائی کرو۔ جب انہوں نے کھودا تو وہاں حضرت یوسف علیہ السلام کا جسد خاکی موجود تھا۔ جب انہوں نے اسے زمین سے نکالا تو راستہ دن کی روشنی کی طرح واضح ہو گیا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين / حدیث: 4132
درجۂ حدیث محدثین: حديث حسن
تخریج حدیث «حديث حسن، وأحمد بن عمران الأخنسي متابع كما تقدم برقم (3565).» [ترقيم الرساله 4132] [ترقيم الشركة 4110]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حديث حسن، وأحمد بن عمران الأخنسي متابع كما تقدم برقم (3565).
درجۂ حدیث: یہ حدیث حسن ہے۔
متابعات و شواہد: احمد بن عمران الاخنسی اس میں متابع (تائید کرنے والے) ہیں، جیسا کہ حدیث نمبر (3565) کے تحت گزر چکا ہے۔
وأخرجه ابن حبان (723) عن أبي يعلى، عن أبي هشام محمد بن يزيد الرفاعي، عن محمد بن فُضيل، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابن حبان (723) نے ابو یعلیٰ سے، انہوں نے ابو ہشام محمد بن یزید الرفاعی سے، انہوں نے محمد بن فضیل سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4132 سے ماخوذ ہے۔