المستدرك على الصحيحين
كتاب : تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين— سابقہ انبیاء و مرسلین کے واقعات
هَلَاكُ قَوْمِ شُعَيْبٍ بِالرِّيحِ باب: قومِ شعیب پر ہوا کے ذریعے عذاب آنا
أخبرنا الحسن بن محمد الإسفراييني، حدثنا محمد بن أحمد بن البَرَاء، حدثنا عبد المنعم بن إدريس، عن أبيه، عن وهب بن مُنبِّه، قال: إِنَّ الله بعث شعيبًا إلى أهل مدين وهم أصحاب الأيكة - والأيكة: الشجرُ المُلْتَفُّ. وكانوا أهل كفر بالله، وبَخْس للناس في المكاييل والموازين، وإفسادٍ لأموالهم، وكان الله تعالى وسَّع عليهم في الرِّزق وبَسَطَ لهم في العيش، استدراجًا منه لهم مع كفرهم به، فقال لهم شعيب: ﴿يَاقَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكُمْ مِنْ إِلَهٍ غَيْرُهُ وَلَا تَنْقُصُوا الْمِكْيَالَ وَالْمِيزَانَ إِنِّي أَرَاكُمْ بِخَيْرٍ وَإِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ مُحِيطٍ﴾ [هود: 84]، فكان من قول شعيب لقومه وجوابِ قَومِه له ما قد ذَكَرَ اللهُ في كتابه (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4073 - سكت عنه الذهبي في التلخيصوہب بن منبہ رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے حضرت شعیب علیہ السلام کو اہل مدین کی طرف مبعوث فرمایا اور وہی اصحاب الایکہ (گھنے درختوں والے) تھے۔ ’الایکہ‘ گھنے اور الجھے ہوئے درختوں کو کہتے ہیں۔ وہ لوگ اللہ کے ساتھ کفر کرنے والے، ناپ تول میں لوگوں کو کم دینے والے اور ان کے اموال میں خرد برد کرنے والے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے کفر کے باوجود انہیں ڈھیل دینے کے لیے ان کے رزق اور زندگی کی آسائشوں میں بڑی وسعت دے رکھی تھی۔ چنانچہ شعیب علیہ السلام نے ان سے فرمایا: ﴿يَاقَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكُمْ مِنْ إِلَهٍ غَيْرُهُ وَلَا تَنْقُصُوا الْمِكْيَالَ وَالْمِيزَانَ إِنِّي أَرَاكُمْ بِخَيْرٍ وَإِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ مُحِيطٍ﴾ [سورة هود: 84] پس شعیب علیہ السلام کا اپنی قوم سے جو خطاب تھا اور ان کی قوم نے انہیں جو جواب دیا، وہ سب اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں بیان فرما دیا ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: یہ سند "واہٍ" (سخت کمزور) ہے جیسا کہ ذہبی نے "التلخیص" میں کئی مقامات پر کہا۔ اس کی وجہ "عبدالمنعم" ہے جو "متروک الحدیث" ہے اور امام احمد نے اسے جھوٹا کہا ہے۔
وأخرج مثله الطبري في "تاريخه" 1/ 326 من قول سفيان الثوري.
حوالہ / مصدر: اسی کی مثل طبری نے "تاریخ" 1/ 326 میں سفیان ثوری کے قول سے بھی روایت کیا ہے۔