حدیث نمبر: 4109
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا العباس بن محمد الدوري، حدثنا يحيى بن معين، حدثنا وكيع، عن إسماعيل بن أبي خالد، عن نَوف الشامي: أنَّ صالح النبي ﷺ من العرب، لما أهلك الله عادًا، وانقضى أمرُها عُمِّرت ثَمُودُ بعدها فاستُخلفوا في الأرض، فانتشروا، ثم عَتَوا على الله، فلما ظهر فسادهم وعبَدُوا غير الله، بعث الله إليهم صالحًا - وكانوا قومًا عربًا وهو من أوسطهم نسبًا وأفضلهم موضعًا - رسولًا، وكانت منازلهم الحِجْرَ إلى قُرْحٍ (2) وهو وادي القُرى، ثمانية عشر ميلًا فيما بين الحِجر إلى الحِجاز، فبعثه الله إليهم غلامًا شابًا، فدعاهم إلى الله حتى شَمِط وكَبِر، ولا يتبعه منهم إلا قليلٌ مُستضعَفُون، فهلكت عاد وثمود ومن كان منهم من تلك الأمم، وكانوا من ولد لاوَذَ بن سام بن نوح، ولم يكن بين نوح وإبراهيم نبيٌّ قبله - يعني قبل إبراهيم - إلا هود وصالح وإبراهيم ﵈ (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4065 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر

نوف شامی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ بے شک حضرت صالح نبی ﷺ کا تعلق عرب سے تھا۔ جب اللہ تعالیٰ نے قوم عاد کو ہلاک کر دیا اور ان کا قصہ تمام ہوا تو ان کے بعد قوم ثمود آباد ہوئی اور انہیں زمین میں جانشین بنایا گیا، پس وہ پھیل گئے، پھر انہوں نے اللہ کے سامنے سرکشی کی۔ جب ان کی نافرمانی ظاہر ہوئی اور انہوں نے اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت شروع کی، تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف حضرت صالح علیہ السلام کو رسول بنا کر بھیجا۔ وہ (قوم ثمود) ایک عرب قوم تھی اور حضرت صالح علیہ السلام نسب کے لحاظ سے ان میں سب سے اعلیٰ اور مرتبے کے اعتبار سے سب سے افضل تھے۔ ان کی رہائش گاہیں حجر سے لے کر قرح تک تھیں، جو وادی القریٰ ہے، اور حجر سے حجاز کے درمیان اٹھارہ میل کا فاصلہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں (صالح علیہ السلام کو) جوانی کے عالم میں مبعوث فرمایا، چنانچہ وہ انہیں اللہ کی طرف بلاتے رہے یہاں تک کہ ان کے بال سفید ہو گئے اور وہ بوڑھے ہو گئے، لیکن ان میں سے صرف چند کمزور لوگوں نے ہی ان کی پیروی کی۔ پس عاد اور ثمود اور ان امتوں میں سے جو لوگ تھے سب ہلاک ہو گئے، اور یہ سب لاوذ بن سام بن نوح کی اولاد میں سے تھے۔ اور نوح اور ابراہیم علیہما السلام کے درمیان کوئی نبی نہیں گزرا سوائے ہود، صالح اور ابراہیم علیہم السلام کے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين / حدیث: 4109
درجۂ حدیث محدثین: رجاله ثقات
تخریج حدیث «رجاله ثقات، نوف الشامي: هو نَوف بن فَضَالة البِكَالي ابن امرأة كعب الأحبار. وقد روى مثل هذا محمد بن إسحاق فيما أخرجه عنه ابن أبي حاتم في "تفسيره" 5/ 1512 و 6/ 1837 و 8/ 2695، وابنُ جَرير الطبري في "تفسيره" 8/ 225 - 226، وهو عند ابن أبي الدنيا أيضًا في "العقوبات" (147) مختصرًا.» [ترقيم الرساله 4109] [ترقيم الشركة 4087] [ترقيم العلميه 4065]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) تحرفت في النسخ الخطية إلى: قرع، بالعين المهملة في آخرها، وإنما هي بالحاء المهملة، وهي بضم القاف وسكون الراء.
نوٹ / توضیح (لغت و متن): قلمی نسخوں میں یہ لفظ تحریف ہو کر "قرع" (عین مہملہ کے ساتھ) ہو گیا تھا۔ درست لفظ "قُرْح" (حائے مہملہ کے ساتھ) ہے، جو قاف کے پیش (ضمہ) اور راء کے سکون کے ساتھ پڑھا جاتا ہے۔
(3) رجاله ثقات. نوف الشامي: هو نَوف بن فَضَالة البِكَالي ابن امرأة كعب الأحبار. وقد روى مثل هذا محمد بن إسحاق فيما أخرجه عنه ابن أبي حاتم في "تفسيره" 5/ 1512 و 6/ 1837 و 8/ 2695، وابنُ جَرير الطبري في "تفسيره" 8/ 225 - 226، وهو عند ابن أبي الدنيا أيضًا في "العقوبات" (147) مختصرًا.
درجۂ راوی: اس کے رجال "ثقہ" ہیں۔ نوف الشامی سے مراد "نوف بن فضالہ البکالی" ہیں جو کعب الاحبار کی اہلیہ کے بیٹے (سوتیلے بیٹے) تھے۔
متابعات و شواہد: اسی طرح کی روایت محمد بن اسحاق نے بھی بیان کی ہے جسے ابن ابی حاتم نے اپنی "تفسیر" (متعدد مقامات پر) اور طبری نے اپنی "تفسیر" 8/ 225-226 میں روایت کیا ہے۔ نیز یہ ابن ابی الدنیا کی "العقوبات" (147) میں بھی مختصراً موجود ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4109 سے ماخوذ ہے۔