حدیث نمبر: 4102M
قال وهبٌ (3): وذكر (1) عبد الله بن عباس أنَّ الذي حَمَلَهم على إتيان الرجال دون النساء أنهم كانت لهم بساتين وثِمارٌ في منازلهم، وبساتين وثمارٌ خارجةً على ظهر الطريق، وأنهم أصابهم قَحْط شديدٌ وجوعٌ، فقال بعضهم لبعض: إنكم إن مَنَعتُم ثماركم هذه الظاهرة من أبناء السبيل، كان لكم فيها معاشٌ، فقالوا: كيف نمنعها؟ فأقبل بعضهم على بعض، فقالوا: اجعَلُوا سُنَّتكم فيها من أخذتُم في بلادكم غريبًا لا تَعرِفُوه فاسلبوه وانكِحُوه وشُجُّوه، فإنَّ الناس لا يَطَؤُون بلادكم إذا فعلتُم ذلك، فجاءهم إبليس على تلك الحال في هيئة صَبِيٍّ وَضِيءٍ أحلى صبيٍّ رآه الناسُ وأَوسمه، فعَمَدُوه فنكحوه وسَلَبُوه وشَجُّوه، ثم ذَهَبَ فكان لا يأتيهم غريبٌ من الناس إلّا فعلوا به ذلك، فكان تلك سُنتهم، حتى بعث الله إليهم لوطًا، فنهاهم لوط عن ذلك، وحذَّرهم العذاب وأعذَرَ إليهم، فقال: يا قوم ﴿إِنَّكُمْ لَتَأْتُونَ الْفَاحِشَةَ مَا سَبَقَكُمْ بِهَا مِنْ أَحَدٍ مِنَ الْعَالَمِينَ﴾ [العنكبوت: 28]، ثم ذكر باقي الحديث عن ابن عباس (1).
حافظ طلحہ بابر

وہب کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے ذکر کیا کہ جس بات نے انہیں عورتوں کو چھوڑ کر مردوں کے پاس آنے پر آمادہ کیا وہ یہ تھی کہ ان کے گھروں کے اندر بھی باغات اور پھل تھے اور عام شاہراہ کے کنارے باہر بھی باغات اور پھل تھے، اور انہیں سخت قحط اور بھوک نے آ لیا، تو انہوں نے ایک دوسرے سے کہا: ”اگر تم ان ظاہر ہونے والے پھلوں سے مسافروں کو روک دو تو تمہارے لیے اس میں گزر بسر کا سامان ہو جائے گا“، انہوں نے پوچھا: ”ہم انہیں کیسے روکیں؟“ تو وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہوئے اور کہنے لگے: ”اپنے ملک میں یہ قانون بنا لو کہ جس کسی اجنبی کو تم اپنے علاقے میں پاؤ جسے تم نہ پہچانتے ہو، تو اسے لوٹ لو، اس کے ساتھ بدفعلی کرو اور اس کا سر پھوڑ دو، کیونکہ جب تم ایسا کرو گے تو لوگ تمہارے ملک کا رخ نہیں کریں گے“، پس اسی حال میں ابلیس ان کے پاس ایک انتہائی حسین و جمیل لڑکے کی شکل میں آیا جو لوگوں کے دیکھے ہوئے لڑکوں میں سب سے زیادہ پیارا اور وجیہہ تھا، پس انہوں نے اسے اپنا ہدف بنایا، اس کے ساتھ بدفعلی کی، اسے لوٹا اور اس کا سر پھوڑ دیا، پھر وہ چلا گیا، اس کے بعد ان کے پاس جو بھی اجنبی آتا وہ اس کے ساتھ یہی سلوک کرتے تھے، پس یہی ان کا طریقہ کار بن گیا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف سیدنا لوط علیہ السلام کو مبعوث فرمایا، تو سیدنا لوط علیہ السلام نے انہیں اس فعل سے روکا، انہیں عذابِ الہی سے ڈرایا اور ان پر حجت تمام کی، اور فرمایا: اے میری قوم! ﴿إِنَّكُمْ لَتَأْتُونَ الْفَاحِشَةَ مَا سَبَقَكُمْ بِهَا مِنْ أَحَدٍ مِنَ الْعَالَمِينَ﴾ ”یقیناً تم ایسی بے حیائی کا ارتکاب کرتے ہو جس میں تم سے پہلے جہان والوں میں سے کسی نے پہل نہیں کی۔“ [سورة العنكبوت: 28]، پھر انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بقیہ حدیث ذکر کی۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين / حدیث: 4102M
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 4102M] [ترقيم الشركة 4080/1]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) هذا موصولٌ بالإسناد الذي قبله والظاهر أنَّ الذي يحكيه عن وهب - وهو ابن منبه - هو الواقديُّ نفسه، ولم يُدركه.
فنی نکتہ / علّت: یہ پچھلی سند کے ساتھ ہی "موصول" ہے۔ اور ظاہر یہ ہے کہ جو شخص وہب (ابن منبہ) سے یہ حکایت کر رہا ہے وہ خود "واقدی" ہے، اور واقدی نے وہب کا زمانہ نہیں پایا (یعنی منقطع ہے)۔
(1) إسناده ضعيف، وقد تفرد به الواقدي عن وهب - وهو ابن مُنبِّه - ولم يُدركه أيضًا، وقد روي هذا الخبر من وجه آخر عن ابن عباس لا يُفرح به البتة.
درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے، واقدی اس میں وہب سے روایت کرنے میں منفرد ہیں حالانکہ انہوں نے وہب کو نہیں پایا۔ یہ خبر ایک اور طریقے سے ابن عباس سے بھی مروی ہے لیکن وہ بھی قطعی طور پر قابلِ التفات نہیں (لا یفرح بہ البتۃ)۔
فقد أخرجه إسحاق بن بشر البخاري في "المبتدأ" كما في "الدر المنثور" للسيوطي 3/ 496، ومن طريقه ابن عساكر في "تاريخ دمشق" 50/ 312 - 313 عن مقاتل بن سليمان وجُويبر بن سعيد الأزدي، عن الضحاك بن مزاحم، عن ابن عبّاس. وإسحاق بن بشر هذا، وكذا مُقاتِل وجُويبر متروكون.
حوالہ / مصدر: چنانچہ اسے اسحاق بن بشر البخاری نے "المبتدا" (بحوالہ الدر المنثور 3/ 496) میں، اور ان کے طریق سے ابن عساکر 50/ 312-313 نے مقاتل بن سلیمان اور جویبر بن سعید سے، انہوں نے ضحاک سے، اور انہوں نے ابن عباس سے روایت کیا ہے۔
درجۂ راوی: یہ اسحاق بن بشر، اسی طرح مقاتل اور جویبر، سب کے سب "متروک" راوی ہیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4102 سے ماخوذ ہے۔