حدیث نمبر: 4102
أخبرنا أبو عبد الله بن بُطّة، حدثنا الحسن بن الجهم، حدثنا الحسين بن الفرج، حدثنا الواقدي، قال: وبلغنا أنَّ إبراهيم لما هاجر إلى أرض الشام وأخرجوه منها طَرِيدًا، فانطلق ومعه سارة، وقالت له: إني قد وهبتُ نفسي لك، فأوحى الله إليه أن يتزوَّجها، فكان أول وحيٍ أنزله عليه، وآمن به لوط في رهطٍ معه من قومه، وقال: ﴿إِنِّي مُهَاجِرٌ إِلَى رَبِّي إِنَّهُ هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ﴾ [العنكبوت:26]، فأخرجوه من أرض بابل آمِّين الأرضَ المقدسة، حتى ورد حَرّان، فأخرجُوه منها، حتى دَفَعُوا إلى الأردن، وفيها جَبّار من الجبارين حتى قَصَمَه الله، ثم إن إبراهيم رجع إلى الشام ومعه لوط، فنبَّأ الله لوطًا وبعثه إلى المؤتفكات رسولًا وداعيًا إلى الله، وهي خمسة مدائن، أعظمُها سَدُوما، ثم عَمُودا، ثم أرُوما، ثم صَعُورا، ثم صابورا، وكان أهل هذه المدائن أربعة آلاف ألفِ إنسان، فنزل لوطٌ سَدُوما، فلبث فيهم بضعًا وعشرين سنة يأمرهم وينهاهم ويدعوهم إلى الله وإلى عبادته، وتَرْكِ ما هم عليه من الفواحش والخبائث، وكانت الضِّيافةُ مُفتَرَضَةً على لوطٍ كما افتُرِضَت على إبراهيم وإسماعيل، فكان قومه لا يُضيفون أحدًا، وكانوا يأتون الذُّكْران من العالمين، ويدَعُون النساء، فعيَّرهم الله بذلك على لسان نبيهم في القرآن فقال: ﴿أَتَأْتُونَ الذُّكْرَانَ مِنَ الْعَالَمِينَ (165) وَتَذَرُونَ مَا خَلَقَ لَكُمْ رَبُّكُمْ مِنْ أَزْوَاجِكُمْ﴾ [الشعراء:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4058 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر

ہمیں ابو عبداللہ بن بطہ نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ ہمیں حسن بن جہم نے حدیث بیان کی، انہیں حسین بن فرج نے اور انہیں واقدی نے بتایا، وہ کہتے ہیں: ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ جب سیدنا ابراہیم علیہ السلام سرزمینِ شام کی طرف ہجرت کر گئے اور ان کی قوم نے انہیں وہاں سے جلاوطن کر کے نکال دیا، تو وہ وہاں سے روانہ ہوئے اور ان کے ساتھ سیدہ سارہ رضی اللہ عنہا تھیں، انہوں نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام سے کہا: ”میں نے اپنی جان آپ کو ہبہ کر دی ہے“، تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی فرمائی کہ وہ ان سے نکاح کر لیں، اور یہ پہلی وحی تھی جو اللہ نے ان پر نازل فرمائی، اور ان کی قوم کے ایک گروہ میں سے سیدنا لوط علیہ السلام ان پر ایمان لائے اور انہوں نے کہا: ﴿إِنِّي مُهَاجِرٌ إِلَى رَبِّي إِنَّهُ هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ﴾ ”میں اپنے رب کی طرف ہجرت کرنے والا ہوں، یقیناً وہی بڑا غالب اور حکمت والا ہے۔“ [سورة العنكبوت: 26]، پھر ان لوگوں نے انہیں سرزمینِ بابل سے نکال دیا جبکہ وہ ارضِ مقدسہ کا رخ کیے ہوئے تھے، یہاں تک کہ وہ حران پہنچے، تو وہاں سے بھی لوگوں نے انہیں نکال دیا، یہاں تک کہ وہ اردن پہنچ گئے، اور وہاں جابر بادشاہوں میں سے ایک جابر حکمران تھا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اسے ہلاک کر دیا، پھر سیدنا ابراہیم علیہ السلام شام واپس آگئے اور ان کے ساتھ سیدنا لوط علیہ السلام بھی تھے، پھر اللہ تعالیٰ نے سیدنا لوط علیہ السلام کو نبوت عطا فرمائی اور انہیں «المؤتفكات» ”الٹ دی جانے والی بستیوں“ کی طرف رسول اور اللہ کی طرف دعوت دینے والا بنا کر بھیجا، اور یہ پانچ شہر تھے جن میں سب سے بڑا شہر ”سدوما“ تھا، پھر ”عمودا“، پھر ”اروما“، پھر ”صعورا“ اور پھر ”صابورا“، اور ان شہروں کی آبادی چالیس لاکھ انسانوں پر مشتمل تھی، پس سیدنا لوط علیہ السلام نے ”سدوما“ میں قیام فرمایا اور بیس سال سے کچھ زائد عرصہ ان کے درمیان رہے، انہیں نیکی کا حکم دیتے، برائی سے روکتے اور اللہ کی طرف اور اس کی عبادت کی طرف بلاتے تھے، اور انہیں ان فحش کاریوں اور ناپاکیوں کو چھوڑنے کی دعوت دیتے تھے جن میں وہ مبتلا تھے، اور مہمانی کی ضیافت سیدنا لوط علیہ السلام پر اسی طرح فرض تھی جیسے سیدنا ابراہیم اور سیدنا اسماعیل علیہما السلام پر فرض تھی، لیکن ان کی قوم کسی کی مہمانی نہیں کرتی تھی، اور وہ جہان والوں میں سے مردوں کے پاس بدفعلی کے لیے آتے تھے اور عورتوں کو چھوڑ دیتے تھے، تو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ان کے نبی کی زبان سے انہیں اس پر عار دلائی اور فرمایا: ﴿أَتَأْتُونَ الذُّكْرَانَ مِنَ الْعَالَمِينَ ٭ وَتَذَرُونَ مَا خَلَقَ لَكُمْ رَبُّكُمْ مِنْ أَزْوَاجِكُمْ﴾ ”کیا تم جہان والوں میں سے مردوں کے پاس آتے ہو؟ اور تمہارے رب نے تمہارے لیے تمہاری جو بیویاں پیدا کی ہیں انہیں چھوڑ دیتے ہو۔“ [سورة الشعراء: 165-166]۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين / حدیث: 4102
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف، وقد تفرد به الواقدي» [ترقيم الرساله 4102] [ترقيم الشركة 4080] [ترقيم العلميه 4058]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده ضعيف، وقد تفرد به الواقدي - وهو محمد بن عمرو - ولا يُعتبر بما ينفرد به.
درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے۔ واقدی (محمد بن عمر) اس میں منفرد ہیں، اور ان کی منفرد روایات کا اعتبار نہیں کیا جاتا۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4102 سے ماخوذ ہے۔