المستدرك على الصحيحين
كتاب : تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين— سابقہ انبیاء و مرسلین کے واقعات
حِلْيَةُ إِسْحَاقَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - باب: سیدنا اسحاق علیہ السلام کی وضع قطع کا بیان
أخبرني أبو سعيد أحمد بن محمد الأحمسي، حدثنا الحسين بن حميد بن الربيع، حدثنا مروان بن جعفر السَّمُري، حدثنا حميد بن معاذ، حدثنا مُدرِك بن عبد الرحمن، حدثنا الحسن بن ذكوان، عن الحسن، عن سَمُرة، عن كعب الأحبار، قال: ثم كان إسحاق بن إبراهيم الذي جعله الله نورًا وضياءً وقرة عينٍ لوالديه، فكان من أحسن الناس وجهًا وأكثره جمالًا وأحسنِه مَنطِقًا، فكان أبيضَ جَعْدَ الرأس واللحية، مُشبَّهًا بإبراهيم خَلْقًا وخُلقًا، ووُلِد لإسحاق يعقوب وعيصا، فكان يعقوب أحسنَهما وأنطقَهما وأكثرهما جمالًا وظَرْفًا، وكان عيصا كثير شعر الجسد والوجه والرأس، وكان يسكُن الروم فيما حدَّثَ سَمُرة بن جُندب (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4043 - إسناده واهکعب احبار رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”پھر اسحاق بن ابراہیم علیہما السلام ہوئے جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے والدین کے لیے نور، روشنی اور آنکھوں کی ٹھنڈک بنایا۔ وہ لوگوں میں سب سے زیادہ خوبصورت چہرے والے، سب سے زیادہ حسین اور سب سے بہتر گفتگو کرنے والے تھے۔ وہ سفید رنگت والے، گھنگھریالے بالوں اور داڑھی والے تھے، اور اپنی ظاہری اور باطنی حالت (اخلاق) میں ابراہیم علیہ السلام کے مشابہ تھے۔ پھر اسحاق کے ہاں یعقوب اور عیص پیدا ہوئے۔ ان دونوں میں یعقوب زیادہ خوبصورت، زیادہ فصیح اور زیادہ حسین و خوش طبع تھے، اور عیص کے جسم، چہرے اور سر پر بہت زیادہ بال تھے، اور وہ روم میں سکونت پذیر ہوئے، جیسا کہ سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: اس کی سند "واہٍ" (بہت کمزور) ہے جیسا کہ ذہبی نے تلخیص میں کہا، اور اس کے رجال پر کلام نمبر (4059) میں گزر چکا ہے۔