المستدرك على الصحيحين
كتاب : تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين— سابقہ انبیاء و مرسلین کے واقعات
ذِكْرُ إِسْمَاعِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ - أَوَّلُ مَنْ نَطَقَ بِالْعَرَبِيَّةِ إِسْمَاعِيلُ باب: سیدنا اسماعیل علیہ السلام کا ذکر — سب سے پہلے عربی بولنے والے سیدنا اسماعیل علیہ السلام
حدیث نمبر: 4075
فحدَّثَناه أبو عبد الله بن بطة، حدثنا الحسن بن الجهم، حدثنا الحسين بن الفرج، حدثنا محمد بن عمر، حدثني الثَّوْري، عن أبيه، عن أبي الضُّحى، عن مسروق، عن عبد الله، عن النبي ﷺ، قال: "إن لكل نبي ولاة من النبيين، وإن وليي منهم أبي وخليلي"، ثم قرأ النبي ﷺ: ﴿إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِإِبْرَاهِيمَ﴾ إلى آخر الآية (2). حديث أبي نُعيم إذا جُمع بينه وبين حديث الواقدي صح، فإنه لا بُدَّ من مسروق.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”بیشک ہر نبی کے انبیائے کرام میں سے کچھ دوست (اور سرپرست) ہوتے ہیں، اور یقیناً ان میں سے میرے دوست اور میرے خلیل میرے جدِ امجد (ابراہیم علیہ السلام) ہیں۔“ پھر نبی کریم ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِإِبْرَاهِيمَ﴾ آخر تک [سورة آل عمران: 68]
(امام حاکم فرماتے ہیں کہ) ابو نعیم کی حدیث کو جب واقدی کی حدیث کے ساتھ ملایا جائے تو یہ صحیح ثابت ہوتی ہے، کیونکہ اس میں مسروق کا ہونا ضروری ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) حديث صحيح، وإسناده إلى محمد بن عمر - وهو الواقدي - قدّمنا الكلام عليه برقم (4060)، ومحمد بن عمر الواقدي متابع، ومن فوقه ثقات. وانظر ما قبله.
درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: محمد بن عمر (واقدی) تک اس کی سند پر ہم نمبر (4060) میں کلام کر چکے ہیں۔ واقدی یہاں "متابع" ہیں اور ان سے اوپر تمام راوی "ثقہ" ہیں۔ پچھلا حاشیہ ملاحظہ کریں۔
درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: محمد بن عمر (واقدی) تک اس کی سند پر ہم نمبر (4060) میں کلام کر چکے ہیں۔ واقدی یہاں "متابع" ہیں اور ان سے اوپر تمام راوی "ثقہ" ہیں۔ پچھلا حاشیہ ملاحظہ کریں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4075 سے ماخوذ ہے۔