حدیث نمبر: 4072
حدثنا أبو عبد الله الأصبهاني، حدثنا الحسن بن الجهم، حدثنا الحُسين بن الفَرَج، حدثنا محمد بن عُمر، قال: فحدثني الثَّوْري، عن أبي إسحاق الهَمْداني، عن عبد الله بن الخَليل، قال: سمعت عَلِيًّا يقول: استغفر رجلٌ لأبويه وهما مُشركان، فقلتُ: أتستغفِرُ لهما وهما مُشركان؟ فقال: استغفرَ إبراهيم لأبيه، فذكرت ذلك لرسول الله ﷺ، فأنزل الله: ﴿وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ إِبْرَاهِيمَ لِأَبِيهِ إِلَّا عَنْ مَوْعِدَةٍ وَعَدَهَا إِيَّاهُ﴾ [التوبة: 114] (2). ذكرُ إسماعيل بن إبراهيم صلوات الله عليهما
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4028 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر

سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”ایک شخص نے اپنے والدین کے لیے مغفرت کی دعا کی جبکہ وہ دونوں مشرک تھے۔ میں نے اس سے کہا: کیا تم ان کے لیے مغفرت طلب کرتے ہو حالانکہ وہ مشرک ہیں؟ تو اس نے جواب دیا: ابراہیم علیہ السلام نے بھی تو اپنے باپ کے لیے مغفرت طلب کی تھی۔ پس میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس بات کا ذکر کیا، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ إِبْرَاهِيمَ لِأَبِيهِ إِلَّا عَنْ مَوْعِدَةٍ وَعَدَهَا إِيَّاهُ﴾ ”اور ابراہیم کا اپنے باپ کے لیے مغفرت طلب کرنا محض اس وعدے کی وجہ سے تھا جو انہوں نے اس سے کیا تھا۔“ [سورة التوبة: 114]
سیدنا اسماعیل بن ابراہیم علیہما السلام کا ذکر:

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين / حدیث: 4072
درجۂ حدیث محدثین: حديث حسن
تخریج حدیث «حديث حسن، وإسناده إلى الواقدي تقدم الكلام عليه برقم (4060)، ومحمد بن عمر الواقدي متابع، ومَن فوقه لا بأس بهم. الثوري: هو سفيان، وأبو إسحاق الهَمْداني: هو عمرو بن عبد الله السبيعي.» [ترقيم الرساله 4072] [ترقيم الشركة 4050] [ترقيم العلميه 4028]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) حديث حسن، وإسناده إلى الواقدي تقدم الكلام عليه برقم (4060)، ومحمد بن عمر الواقدي متابع، ومَن فوقه لا بأس بهم. الثوري: هو سفيان، وأبو إسحاق الهَمْداني: هو عمرو بن عبد الله السبيعي.
درجۂ حدیث: یہ حدیث حسن ہے۔
فنی نکتہ / علّت: واقدی تک اس کی سند پر بحث نمبر (4060) میں گزر چکی ہے۔ محمد بن عمر الواقدی یہاں "متابع" (بطور تائید) ہیں، اور ان سے اوپر والے راویوں میں کوئی حرج نہیں۔ (راوی) ثوری سے مراد "سفیان" ہیں، اور ابو اسحاق الہمْدانی سے مراد "عمرو بن عبداللہ السبیعی" ہیں۔
وقد تقدم برقم (3328) من طرق عن سفيان الثوري. وقد ورد في سبب نزول الآية غير ذلك كما مضى برقم (3329 - 3331)، ولا يمتنع تعدد الأسباب للآية الواحدة كما قال الحافظ ابن حجر في "الفتح" 14/ 172.
حوالہ / مصدر: یہ سفیان ثوری کے کئی طرق سے نمبر (3328) پر گزر چکا ہے۔
نوٹ / توضیح: اس آیت کے شانِ نزول میں اس کے علاوہ بھی وجوہات بیان ہوئی ہیں جیسا کہ نمبر (3329 - 3331) پر گزرا۔ اور ایک ہی آیت کے لیے اسباب کا متعدد ہونا کوئی ناممکن بات نہیں، جیسا کہ حافظ ابن حجر نے "الفتح" 14/ 172 میں فرمایا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4072 سے ماخوذ ہے۔