حدیث نمبر: 4054
أخبرنا على بن عبد الرحمن بن ماتى، حدثنا أحمد بن حازم بن أبي غَرَزَة، حدثنا موسى بن يعقوب الزَّمعي، حدثنا فائدٌ مولى عبيد الله بن علي، أن إبراهيم بن عبد الرحمن بن أبي ربيعة أخبره، أن عائشة زوج النبي ﷺ أخبرته، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "لو رَحِمَ اللهُ أحدًا من قوم نُوحٍ لَرَحِمَ أم الصبي"، قال رسول الله ﷺ: "كانَ نُوحٌ مَكَثَ في قومه ألفَ سنةٍ إلا خمسين عامًا يدعوهم إلى الله، حتى كان آخر زمانه غرَسَ شجرةً فعظمت وذهبتْ كلَّ مَذهَبٍ، ثم قطعها، ثم جعل يعمل سفينةٌ، فيَسخَرُون منه ويقولون: يعمل سفينةً في البرّ، فكيف تجري؟! فيقول: سوف تعلمون، فلما فرغ منها وفارَ التنور، وكَثُرَ الماءُ في السكك، خَشِيَت أم الصبي عليه، وكانت تُحبه حبًّا شديدًا، فخرجت إلى الجبل حتى بلغت ثلثه، فلما بلغها الماء خرجت حتى بلغت ثلثي الجبل، فلما بلغها خرجت حتى استوَتْ على الجبل، فلما بلغ الماء رقبتها رفعته بيدها حتى ذَهَب به الماءُ، فلو رَحِمَ اللهُ منهم أحدًا، لرَحِمَ أم الصبي" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
حافظ طلحہ بابر

نبی کریم ﷺ کی زوجہ مطہرہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر اللہ تعالیٰ قوم نوح میں سے کسی پر رحم فرماتا، تو اس بچے کی ماں پر رحم فرماتا۔“ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”نوح علیہ السلام اپنی قوم میں ساڑھے نو سو سال تک ٹھہرے رہے اور انہیں اللہ کی طرف بلاتے رہے، یہاں تک کہ جب ان کا آخری وقت آیا تو انہوں نے ایک درخت لگایا جو بہت بڑا ہو گیا اور ہر طرف پھیل گیا۔ پھر انہوں نے اسے کاٹا اور اس سے ایک کشتی بنانے لگے۔ تو لوگ ان کا مذاق اڑانے لگے اور کہنے لگے: یہ خشکی پر کشتی بنا رہا ہے، یہ کیسے چلے گی؟! تو وہ جواب دیتے: تم عنقریب جان لو گے۔ پھر جب وہ اس سے فارغ ہوئے اور تنور ابل پڑا، اور گلیوں میں پانی زیادہ ہو گیا، تو اس بچے کی ماں کو اس (اپنے بچے) پر خوف محسوس ہوا، اور وہ اس سے بہت شدید محبت کرتی تھی۔ پس وہ پہاڑ کی طرف نکلی یہاں تک کہ اس کے ایک تہائی حصے تک پہنچ گئی۔ پھر جب پانی وہاں تک پہنچا تو وہ مزید اوپر گئی یہاں تک کہ پہاڑ کے دو تہائی حصے پر پہنچ گئی۔ پھر جب پانی وہاں بھی پہنچ گیا تو وہ اور اوپر گئی یہاں تک کہ پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ گئی۔ پھر جب پانی اس کی گردن تک پہنچ گیا تو اس نے بچے کو اپنے ہاتھ سے اوپر اٹھا لیا، یہاں تک کہ پانی اس بچے کو بھی بہا لے گیا۔ پس اگر اللہ تعالیٰ ان میں سے کسی پر رحم فرماتا، تو اس بچے کی ماں پر رحم فرماتا۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين / حدیث: 4054
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف لتفرّد موسى بن يعقوب الزَّمْعي به.» [ترقيم الرساله 4054] [ترقيم الشركة 4032]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده ضعيف لتفرّد موسى بن يعقوب الزَّمْعي به.
درجۂ حدیث: اس کی سند "ضعیف" ہے کیونکہ موسیٰ بن یعقوب زمعی اس میں منفرد ہیں۔
وقد سلف برقم (3349) من طريق سعيد بن الحكم بن أبي مريم عن موسى بن يعقوب.
حوالہ / مصدر: یہ پہلے نمبر (3349) پر سعید بن حکم بن ابی مریم عن موسیٰ بن یعقوب کے طریق سے گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4054 سے ماخوذ ہے۔