حدیث نمبر: 4036
حدَّثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا إبراهيم بن إسحاق الحَرْبي وموسى بن الحسن بن عَبّاد، قالا: حدَّثنا عفان بن مُسلِم، حدَّثنا حماد بن سَلَمة، عن ثابت، عن أنس، أن رسول الله ﷺ قال: "لما صَوَّرَ الله آدمَ تركَه، فجَعَل إبليسُ يُطِيفُ به، يَنظُر إليه، فلما رآه أجوفَ قال: ظَفِرتُ به، خَلْقٌ لا يَتمالَك" (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3992 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کی صورت بنائی تو انہیں (کچھ دیر کے لیے) چھوڑ دیا، تو ابلیس ان کے گرد گھومنے لگا اور انہیں دیکھنے لگا، جب اس نے دیکھا کہ یہ تو اندر سے کھوکھلے ہیں تو اس نے کہا: میں نے اس پر قابو پا لیا ہے، یہ ایسی مخلوق ہے جو اپنے آپ پر قابو نہیں رکھ سکتی۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين / حدیث: 4036
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،ثابت: هو ابن أسلم البُناني.» [ترقيم الرساله 4036] [ترقيم الشركة 4014] [ترقيم العلميه 3992]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده صحيح. ثابت: هو ابن أسلم البُناني.
درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔ ثابت سے مراد "ابن اسلم البنانی" ہیں۔
وأخرجه أحمد 21/ (13516) و (13661) عن عفان بن مسلم، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (21/13516، 13661) نے عفان بن مسلم سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وقد تقدَّم برقم (105) من طريق بهز بن أسد عن حماد بن سلمة.
حوالہ / مصدر: یہ پہلے نمبر (105) پر بہز بن اسد عن حماد بن سلمہ کے طریق سے گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4036 سے ماخوذ ہے۔