حدیث نمبر: 4027
أخبرنا أبو العبَّاس محمد بن أحمد المحبُوبي، حدَّثنا الفَضْل بن عبد الجبار، حدَّثنا النَّضْر بن شُمَيل، حدَّثنا شُعبة، حدَّثنا أبو إسحاق: سمعتُ أبا عُبيدة يحدِّث عن عبد الله قال: كان رسول الله ﷺ يُكثِرُ أن يقول: "سُبحانَك ربَّنا وبحمدِك"، فلما نزلت: ﴿إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ﴾، قال: "سبحانَك ربَّنا وبحمدِك، اللهمَّ اغْفِرْ لي إنَّك أنت التوابُ الرَّحيم" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3983 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ کثرت سے یہ پڑھا کرتے تھے: «سُبْحَانَكَ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ» ”پاک ہے تو اے ہمارے رب اور اپنی تعریفوں کے ساتھ۔“ پھر جب یہ سورت نازل ہوئی: ﴿إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ﴾ [سورة النصر: 1]، تو آپ ﷺ نے (یہ دعا) پڑھنی شروع کر دی: «سُبْحَانَكَ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي، إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ» ”پاک ہے تو اے ہمارے رب اور اپنی تعریفوں کے ساتھ، اے اللہ! مجھے بخش دے، بیشک تو ہی بہت توبہ قبول کرنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 4027
درجۂ حدیث محدثین: حسن لغيره
تخریج حدیث «حسن لغيره، وهذا إسناد رجاله ثقات، إلا أنه منقطع، فأبو عبيدة» [ترقيم الرساله 4027] [ترقيم الشركة 4005] [ترقيم العلميه 3983]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حسن لغيره، وهذا إسناد رجاله ثقات، إلا أنه منقطع، فأبو عبيدة - وهو ابن عبد الله بن مسعود - لم يسمع من أبيه. أبو إسحاق: هو عمرو بن عبد الله السبيعي.
درجۂ حدیث: یہ حدیث "حسن لغیرہ" ہے، اس کی سند کے راوی ثقہ ہیں مگر یہ "منقطع" ہے، کیونکہ ابو عبیدہ (ابن عبد اللہ بن مسعود) نے اپنے والد سے نہیں سنا۔ ابو اسحاق سے مراد "عمرو بن عبد اللہ سبیعی" ہیں۔
وقد سلف برقم (1870).
حوالہ / مصدر: یہ پہلے نمبر (1870) پر گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4027 سے ماخوذ ہے۔