أخبرنا أبو العبَّاس محمد بن أحمد المحبُوبي، حدَّثنا الفَضْل بن عبد الجبار، حدَّثنا النَّضْر بن شُمَيل، حدَّثنا شُعبة، حدَّثنا أبو إسحاق: سمعتُ أبا عُبيدة يحدِّث عن عبد الله قال: كان رسول الله ﷺ يُكثِرُ أن يقول: "سُبحانَك ربَّنا وبحمدِك"، فلما نزلت: ﴿إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ﴾، قال: "سبحانَك ربَّنا وبحمدِك، اللهمَّ اغْفِرْ لي إنَّك أنت التوابُ الرَّحيم" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3983 - صحيحسیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ کثرت سے یہ پڑھا کرتے تھے: «سُبْحَانَكَ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ» ”پاک ہے تو اے ہمارے رب اور اپنی تعریفوں کے ساتھ۔“ پھر جب یہ سورت نازل ہوئی: ﴿إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ﴾ [سورة النصر: 1]، تو آپ ﷺ نے (یہ دعا) پڑھنی شروع کر دی: «سُبْحَانَكَ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي، إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ» ”پاک ہے تو اے ہمارے رب اور اپنی تعریفوں کے ساتھ، اے اللہ! مجھے بخش دے، بیشک تو ہی بہت توبہ قبول کرنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: یہ حدیث "حسن لغیرہ" ہے، اس کی سند کے راوی ثقہ ہیں مگر یہ "منقطع" ہے، کیونکہ ابو عبیدہ (ابن عبد اللہ بن مسعود) نے اپنے والد سے نہیں سنا۔ ابو اسحاق سے مراد "عمرو بن عبد اللہ سبیعی" ہیں۔
وقد سلف برقم (1870).
حوالہ / مصدر: یہ پہلے نمبر (1870) پر گزر چکی ہے۔